تاجکستان کے صدر امام علی رحمان ازبک ہم منصب شہوقت مرزیایوف کی دعوت پر آج سے ازبکستان کے دو روزہ سرکاری دورے کا آغاز کر رہے ہیں۔ 26 اور 27 مارچ کو ہونے والے اس دورے کو وسطی ایشیا کی علاقائی سیاست اور دوطرفہ تعلقات کے استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
کونسل کا پہلا تاریخی اجلاس
رپورٹ کے مطابق مذکورہ دورے کی سب سے اہم پیش رفت ‘سپریم انٹر اسٹیٹ کونسل’ کا افتتاحی اجلاس ہے، جس کی مشترکہ صدارت دونوں ممالک کے سربراہان کریں گے۔ اس کونسل کا قیام دونوں ریاستوں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو ایک نئے اور اعلیٰ سطح کے اتحاد میں بدلنے کی جانب بڑا قدم ہے۔
تعاون اور اسٹریٹجک ایجنڈا
مذاکرات کے ایجنڈے میں دوستی اور اچھے ہمسایہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی مکالمے کی مضبوطی شامل ہے۔ دونوں رہنماء تجارتی، اقتصادی اور بین الاقوامی تعاون کے دائرے کو وسیع کرنے پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اس دوران صنعتی تعاون، ٹرانسپورٹ کنیکٹیویٹی میں بہتری اور سب سے اہم ‘پانی اور توانائی’ کی حفاظت یقینی بنانے جیسے حساس اور کلیدی امور پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
اہم دستاویزات پر دستخط
دورے کے دوران محض سفارتی گفتگو ہی نہیں بلکہ عملی اقدامات بھی متوقع ہیں۔ ذرائع کے مطابق متعدد نئے مشترکہ منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا جائے گا اور دوطرفہ تعاون کے قانونی فریم ورک کو مستحکم کرنے کے لیے کئی اہم دستاویزات اور معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔ یہ منصوبے خطے میں معاشی استحکام اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
عالمی مسائل پر ہم آہنگی
ملاقات میں صرف دوطرفہ امور ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال پر بھی تفصیلی بات چیت ہوگی۔ دونوں صدور کثیر الجہتی فورمز پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھانے اور خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر اتفاق کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور انسانی تبادلوں کو مزید تیز کرنے پر بھی زور دیا جائے گا تاکہ دونوں عوام کے درمیان سماجی روابط مضبوط ہوں۔