برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد خاتون صحافی اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن صفینہ خان کو جان سے مارنے کی سنگین دھمکیوں نے عالمی سطح پر بھارت کی اس جارحانہ پالیسی پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے جسے بین الاقوامی ماہرین ‘ماورائے سرحد جبر’ کا نام دے رہے ہیں۔ یہ واقعہ محض ایک انفرادی دھمکی نہیں بلکہ مودی حکومت کی اس عالمی حکمتِ عملی کا حصہ محسوس ہوتا ہے جس کے تحت غیر ملکی سرزمین پر ریاست کے ناقدین اور صحافیوں کو خاموش کرانے کے لیے دباؤ، دھونس اور تشدد کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
صفینہ خان نے اپنی ایک حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایک مخصوص انتہاء پسند اکاؤنٹ کی جانب سے انہیں نشانہ بنایا گیا ہے جس میں کھلم کھلا دعویٰ کیا گیا کہ “نامعلوم مسلح افراد جلد لندن کی سڑکوں پر صفینہ خان سے ملاقات کریں گے”۔ اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر صفینہ خان نے لندن کی میٹروپولیٹن پولیس اور ٹوئیٹر تحفظ کے شعبے سے فوری تحقیقات اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
I request @metpoliceuk to urgently take notice of a threatening post made by the account “Voice of Hindus” targeting me.
— Safina Khan (@SafinaKhann) March 25, 2026
The post states “Sources claimed unknown gunmen will soon meet Safina Khan in London’s streets.” This is a direct threat to my safety and public incitement
I… https://t.co/wNwmwgbX8Y pic.twitter.com/ccFuAMGVFw
بھارت کی جارحانہ کی پالیسی
سفارتی و دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذکورہ واقعہ بھارت کی اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ اپنی سرحدوں سے باہر مقیم مخالفین، صحافیوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے “نامعلوم افراد” کا سہارا لیتا ہے۔ ماہرین اسے عالمی سطح پر ‘بھارتی خوف کی برآمد’ قرار دے رہے ہیں، جہاں ریاستی بیانیے سے اختلاف کرنے والی آوازوں کو دبانے کے لیے ‘جبر پر مبنی قوم پرستی’ کا راستہ اپنایا جاتا ہے۔
برطانوی سرزمین پر ایک صحافی کو اس طرح ہراساں کرنا برطانوی خود مختاری اور عالمی سطح پر آزادیِ اظہارِ رائے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ یہ واقعہ کینیڈا اور امریکہ میں حالیہ سازشوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں مخالفین کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئیں۔
سفارتی تنہائی
تجزیہ کاروں کے مطابق مودی نظریات کی ناکامی اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی نے بھارتی حلقوں میں بوکھلاہٹ پیدا کر دی ہے، جس کا نتیجہ اس طرح کی ذہنی پسماندگی اور دھمکیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ اس بوکھلاہٹ کا نتیجے میں بھارتی وزراء کی جانب سے غیر پارلیمانی زبان کے استعمال اور سوشل میڈیا پر خواتین صحافیوں کو منظم طریقے سے ہراساں کرنے کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ رویہ دراصل اس ذہنی پسماندگی کی علامت ہے جو شکست خوردہ ذہنیت سے جنم لیتی ہے۔ جب سفارتی راستے بند ہو جاتے ہیں، تو ریاستیں اسی طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کرتی ہیں تاکہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈال سکیں۔
دیکھیے: مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی میں کمی: صدر ٹرمپ کا ایران پر ممکنہ حملے 10 روز کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان