وفاقی حکومت نے ملک میں جاری توانائی بحران کے اثرات کم کرنے اور کم آمدن والے افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ‘پٹرول سبسڈی پلان’ پر عملی کام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ایک موبائل ایپلیکیشن تیار کر لی ہے، جو اس وقت ٹیسٹنگ میں ہے تاکہ شفاف طریقے سے حق داروں تک رعایت پہنچائی جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق ابتدائی طور پر یہ سبسڈی ٹو اور تھری ویلرز (موٹر سائیکلز اور رکشہ مالکان) کے لیے مختص کی گئی ہے۔ تجویز دی گئی ہے کہ موٹر سائیکل سواروں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر پٹرول کا کوٹہ مقرر کیا جائے گا، جس پر انہیں عالمی مارکیٹ کی قیمتوں کے برعکس سستی شرح پر ایندھن فراہم کیا جائے گا۔ تاہم بڑی گاڑیوں کے صارفین کے لیے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کا اضافہ برقرار رکھا جائے گا، جبکہ 800 سی سی گاڑیوں کو اس اسکیم میں شامل کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی زیرِ غور ہے۔
پیٹرول پمپس پر انتظامات
اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ملک بھر کے 12 ہزار پٹرول پمپس پر خصوصی نوزلز مختص کی جائیں گی۔ حکومت ہر پیٹرول پمپ کو دو موبائل فونز فراہم کرے گی جن میں نصب کردہ خصوصی ایپ کے ذریعے صارفین کی شناخت اور کوٹے کی تصدیق کی جائے گی۔ اس ڈیجیٹل نظام کا مقصد سبسڈی کے عمل میں کسی بھی قسم کی خرد برد کو روکنا اور براہِ راست مستحق افراد تک فائدہ پہنچانا ہے۔
معاشی اثرات
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف جہاں یہ اسکیم غریب اور متوسط طبقے کے لیے سانس لینے کا موقع فراہم کرے گی، وہیں دوسری جانب حکومت کے لیے مالیاتی خسارے کو کنٹرول کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا بوجھ صرف بڑی گاڑیوں کے مالکان پر ڈالنے سے مہنگائی کے عمومی رجحان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس حوالے سے معاشی حلقوں میں بحث جاری ہے۔
دیکھیے: بھارت کی جارحانہ پالیسی بے نقاب، لندن میں صحافی صفینہ خان کو قتل کی سنگین دھمکیاں