اسلام آباد: پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم کروانے کی مبینہ کوششوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے کھلی معاشی تخریب کاری قرار دیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ بعض عناصر سیاسی مفادات کیلئے ملک دشمن قوتوں کے ساتھ مل کر سازشوں میں مصروف ہیں، اور سیاسی مخالفت کی آڑ میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ناقابلِ برداشت ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے کہا کہ جی ایس پی پلس کے خلاف مہم پاکستان کی معیشت، برآمدات اور لاکھوں افراد کے روزگار پر حملہ ہے، جبکہ ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد کو سیاست پر ترجیح دی جانی چاہیے۔
سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی ایسے بیانات کو غیر ضروری اور قابلِ مذمت قرار دیا، جبکہ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے الزام عائد کیا کہ بیرون ملک پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے کہا کہ جی ایس پی پلس جیسے حساس معاملے پر غیر سنجیدہ گفتگو عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ حنا پرویز بٹ اور اختیار ولی نے بھی سخت الفاظ میں ردعمل دیتے ہوئے اسے قومی مفاد کے خلاف اقدام قرار دیا۔
سابق وفاقی وزیر مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ پاکستان نے طویل جدوجہد کے بعد جی ایس پی پلس اسٹیٹس حاصل کیا، جسے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلئے خطرے میں ڈالنا لاکھوں مزدوروں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
دیگر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عالمی فورمز پر پاکستان کے معاشی مفادات کے خلاف بیانات دینا صرف سیاسی عمل نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان ہے جس کے قومی اثرات ہو سکتے ہیں
دیکھئیے:جنیوا واقعہ افسوسناک ہے، ذاتی مفاد کیلئے قومی مفاد قربان کردیا گیا: عطا تارڑ