پاکستان اور تاجکستان نے دوطرفہ تجارت کے اعداد و شمار میں پائے جانے والے نمایاں تضادات کو دور کرنے کے لیے ہر تین ماہ بعد (سہ ماہی بنیادوں پر) ڈیٹا شیئرنگ کا طریقہ کار متعارف کرانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ پاکستان۔ تاجکستان جوائنٹ ورکنگ گروپ برائے تجارت، سرمایہ کاری اور ٹرانسپورٹ کے تیسرے اجلاس میں کیا گیا، جو چار سال کے طویل وقفے کے بعد حال ہی میں ورچوئلی منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران انکشاف ہوا کہ مالی سال 2024-25 میں پاکستان نے دوطرفہ تجارت کا حجم 29 ملین ڈالر ریکارڈ کیا، جبکہ تاجکستان کے اعداد و شمار میں یہ حجم 43.02 ملین ڈالر ظاہر کیا گیا ہے۔
تجارتی معاہدے میں تاخیر
اجلاس میں مجوزہ ترجیحی تجارتی معاہدے پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق معاہدے کا مسودہ پہلے ہی تاجکستان کے ساتھ شیئر کیا جا چکا ہے۔ تاجک حکام نے مالی مشکلات اور کسٹمز آمدنی میں ممکنہ کمی کے خدشات کو فوری پیش رفت میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ تاجکستان نے فوری معاہدے کے بجائے ایک “وسط مدتی روڈ میپ” کی تجویز دی ہے تاکہ مستقبل میں پی ٹی اے کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان، چین اور تاجکستان کے درمیان روڈ ٹرانسپورٹ کوریڈور کو فعال بنانے کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ تاجکستان کی کواڈری لیٹرل ایگریمنٹ آن ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ میں شمولیت پر بھی بات چیت ہوئی۔ تاجک حکام نے یکساں کسٹمز طریقہ کار پر مزید وضاحت طلب کی ہے، جبکہ دونوں ممالک نے موجودہ ٹرانزٹ فریم ورک کے تحت تعاون بڑھانے کو ترجیح دینے پر اتفاق کیا ہے۔
صنعتی تعاون اور زرعی لاجسٹکس سینٹر کا قیام
صنعتی شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے فارماسیوٹیکل اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر غور کیا گیا۔ تاجکستان نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو “پنج پوئن فری اکنامک زون” میں مراعات دینے کی پیشکش کی ہے اور مرغاب یا پنج پوئن میں مشترکہ زرعی لاجسٹکس سینٹر قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ مزید برآں، دونوں ممالک نے شہد، خشک میوہ جات، کپاس اور سبزیوں کی تجارت کے فروغ اور پاکستان کے “سنگل ونڈو سسٹم” کو تاجک کسٹمز ڈھانچے سے منسلک کرنے کے ذریعے ڈیجیٹل تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا ہے۔