...
امریکا کسی طویل زمینی جنگ میں نہیں الجھنا چاہتا بلکہ محدود اور ہدفی کارروائیوں کے بعد واپسی کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

March 29, 2026

اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنا، جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا اور مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینا ہے

March 29, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسحاق ڈار کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر ری ٹویٹ کیا، جسے عالمی سطح پر اس اقدام کی اہمیت اور پذیرائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

March 29, 2026

اماراتی وزیر خارجہ نے بھی افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو غیر مفید قرار دیتے ہوئے اس کے حل کیلئے تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی

March 29, 2026

عدالت کا یہ نکتہ کہ عورت گھر سنبھال کر مرد کی معاشی ترقی میں معاون بنتی ہے، اخلاقی طور پر وزن رکھتا ہے، مگر کیا اسے ایک عمومی قانونکی شکل دی جا سکتی ہے؟ ہمارا معاشرہ ایک متنوع سماجی ڈھانچہ رکھتا ہے۔ یہاں ایسی بے شمار شادیاں موجود ہیں جو جبری طور پر یا محض خاندانی دباؤ میں طے پاتی ہیں، جہاں اکثر میاں بیوی کے درمیان ذہنی ہم آہنگی پہلے دن سے ہی مفقود ہوتی ہے۔

March 29, 2026

یہ چار فریقی اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطہ شدید سفارتی و سیکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے، اور پاکستان ایک فعال سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے مختلف ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔

March 29, 2026

مشرق وسطیٰ کشیدگی پر اہم سفارتی سرگرمی: مصری وزیر خارجہ کی اسحاق ڈار سے ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو

اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنا، جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا اور مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینا ہے
اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے ملاقات

سعودی وزیر خارجہ کی آمد کے بعد پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم چار ملکی اجلاس متوقع ہے۔

March 29, 2026

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز ہو گئیں، جہاں مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے اہم ملاقات کی۔

دفتر خارجہ میں ہونے والی اس ملاقات میں پاکستان اور مصر کے درمیان دوطرفہ تعلقات، باہمی تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ترکیہ کے وزیر خارجہ بھی جلد دفتر خارجہ پہنچیں گے اور اسحاق ڈار سے ملاقات کریں گے، جبکہ سعودی وزیر خارجہ کی آمد کے بعد پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم چار ملکی اجلاس متوقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنا، جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا اور مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد اس وقت خطے میں سفارتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں اہم عالمی و علاقائی طاقتیں امن کے لیے متحرک نظر آ رہی ہیں۔

دیکھئیے:آبنائے ہرمز میں پاکستانی بحری سرگرمیوں کو بڑا ریلیف، ایران نے مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی: اسحاق ڈار

متعلقہ مضامین

امریکا کسی طویل زمینی جنگ میں نہیں الجھنا چاہتا بلکہ محدود اور ہدفی کارروائیوں کے بعد واپسی کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

March 29, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسحاق ڈار کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر ری ٹویٹ کیا، جسے عالمی سطح پر اس اقدام کی اہمیت اور پذیرائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

March 29, 2026

اماراتی وزیر خارجہ نے بھی افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو غیر مفید قرار دیتے ہوئے اس کے حل کیلئے تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی

March 29, 2026

عدالت کا یہ نکتہ کہ عورت گھر سنبھال کر مرد کی معاشی ترقی میں معاون بنتی ہے، اخلاقی طور پر وزن رکھتا ہے، مگر کیا اسے ایک عمومی قانونکی شکل دی جا سکتی ہے؟ ہمارا معاشرہ ایک متنوع سماجی ڈھانچہ رکھتا ہے۔ یہاں ایسی بے شمار شادیاں موجود ہیں جو جبری طور پر یا محض خاندانی دباؤ میں طے پاتی ہیں، جہاں اکثر میاں بیوی کے درمیان ذہنی ہم آہنگی پہلے دن سے ہی مفقود ہوتی ہے۔

March 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.