ہرات کے صوبائی محکمہ تحفظ ماحولیات کو ہرات میںنسلی تطہیر کا آپریشن شروع، نئے سربراہ عبدالعلی متقی نے محکمے کوقندھاری پشتونوں کا مرکز بنانے کے لئے مقامی افسروں کی بر طرفیوں کی مہم شروع کردی ہے۔ جس میں گزشتہ ایک ہفتے میں 3ذیلی ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان سمیت کم ازکم 19 سینیئر افسروں کو بلا وجہ حیلے بہانے سے بر طرف کردیا گیا ہے۔
سورس کے مطابق ملازمین کو بلا وجہ مستعفی ہونے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہےا ور انکار کرنے والوں کو جبری بر طرف کردیا جاتا ہے ۔ افغانستان کی موجودہ رجیم میں ملازموں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں اور نہ ہی کوئی قانونی حقوق حاصل ہیں، جس کی وجہ سے ملازمین کی نوکری طالبان کے مقررکردہ محکموں کے سربراہان کے رحم وکرم پر ہے۔ سورس کے مطابق ایک سینئر افسر محمد طلحہ فارانی کو مستعفی ہونے کا کہا گیا، انکار پر سکیورٹی کو حکم دیا گیا کہ اسے دفتر میں داخل نہ ہونے دیا جائے ۔ تین روز تک اسے دفتر کے دروازے پر توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا گیا، جس پر وہ استعفیٰ دینے پر مجبور ہوگیا۔
اس کی جگہ پر اسی روز طالبان کے ہرات میں تعینات قندھاری کمانڈرمولوی رئیس الرحمٰن کے چھوٹے بھائی ذہین اللہ کا تقرر کردیا گیا۔ ذہین اللہ کوئٹہ کے ایک مدرسے سے صرف چار درجات تک پڑھا ہوا ہے اور صرف لکھنے پڑھنے کی معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک افسر حماد علی نے متقی کے گالی دینے پر احتجاج کیا تو اسے فوری طور پر بر طرف کرکے سکیورٹی سے تشدد کروایا گیا اور اس کی جگہ بھی ایک پشتون طالبان کو بھرتی کرلیا گیا۔ جن لوگوں کو بر طرف کرکے اس کی جگہ کم تعلیم یافتہ اور اناڑی پشتون طالبان کو بھرتی کیا گیا ہے، اس میں مائنز اینڈ گرینری کے ڈائریکٹر انجینئر فرحت، پائیدار ترقی کے اہداف کے ڈائریکٹر انجینئر طاہر، محکمہ پائیدار ترقی کے ڈائریکٹر حمید اللہ امیری بھی شامل ہیں، ان تینوں انجینئرز کی جگہ جن طالبان کو بھرتی کیا گیا ہے ، مختلف مدارس سے معمولی تعلیم یافتہ ہیں، تینوں میں سے کوئی ایک بھی کسی مدرسے سے بھی مکمل تعلیم یافتہ نہیں ہے۔