...
سورس کے مطابق ملازمین کو بلا وجہ مستعفی ہونے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہےا ور انکار کرنے والوں کو جبری بر طرف کردیا جاتا ہے ۔ افغانستان کی موجودہ رجیم میں ملازموں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں اور نہ ہی کوئی قانونی حقوق حاصل ہیں، جس کی وجہ سے ملازمین کی نوکری طالبان کے مقررکردہ محکموں کے سربراہان کے رحم وکرم پر ہے

March 31, 2026

پاکستان اور رومانیہ نے کراچی اور کونسٹانٹا کی بندرگاہوں کے درمیان معاشی و تکنیکی تعاون کے لیے ایک اہم مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں

March 31, 2026

اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینی قیدیوں کے لیے لازمی سزائے موت کا قانون منظور کر لیا ہے، جسے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ایک منظم ریاستی جبر اور غیر انسانی اقدام قرار دے رہی ہیں

March 31, 2026

عدالتی کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 20 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جبکہ کیس کی 284 پیشیاں ہوئیں۔

March 31, 2026

سندھ کی سرزمین پر ننگے پاؤں چلنے والی اس بیٹی کی جدوجہد دراصل اس سماج کو جھنجھوڑنے کی ایک سعی تھی، جہاں وڈیرہ شاہی کی جڑیں قانون کی کتابوں سے کہیں زیادہ گہری دکھائی دیتی ہیں۔ ایک ہی دن میں باپ کا سایہ، دادا اور چچا کا چھن جانا کوئی معمولی سانحہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس بغاوت کی قیمت تھی جو ایک بلند عزم خاتون نے مروجہ سرداری نظام کے خلاف ادا کی

March 31, 2026

پاکستانی حکام نے طورخم بارڈر کو تین ماہ کی طویل بندش کے بعد افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے

March 31, 2026

طالبان حکومت میں میرٹ کی جگہ شخصی وفاداریوں کو ترجیح

سورس کے مطابق ملازمین کو بلا وجہ مستعفی ہونے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہےا ور انکار کرنے والوں کو جبری بر طرف کردیا جاتا ہے ۔ افغانستان کی موجودہ رجیم میں ملازموں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں اور نہ ہی کوئی قانونی حقوق حاصل ہیں، جس کی وجہ سے ملازمین کی نوکری طالبان کے مقررکردہ محکموں کے سربراہان کے رحم وکرم پر ہے
سورس کے مطابق ملازمین کو بلا وجہ مستعفی ہونے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہےا ور انکار کرنے والوں کو جبری بر طرف کردیا جاتا ہے ۔ افغانستان کی موجودہ رجیم میں ملازموں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں اور نہ ہی کوئی قانونی حقوق حاصل ہیں، جس کی وجہ سے ملازمین کی نوکری طالبان کے مقررکردہ محکموں کے سربراہان کے رحم وکرم پر ہے

سورس کے مطابق ملازمین کو بلا وجہ مستعفی ہونے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہےا ور انکار کرنے والوں کو جبری بر طرف کردیا جاتا ہے ۔ افغانستان کی موجودہ رجیم میں ملازموں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں اور نہ ہی کوئی قانونی حقوق حاصل ہیں

March 31, 2026

ہرات کے صوبائی محکمہ تحفظ ماحولیات کو ہرات میںنسلی تطہیر کا آپریشن شروع، نئے سربراہ عبدالعلی متقی نے محکمے کوقندھاری پشتونوں کا مرکز بنانے کے لئے مقامی افسروں کی بر طرفیوں کی مہم شروع کردی ہے۔ جس میں گزشتہ ایک ہفتے میں 3ذیلی ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان سمیت کم ازکم 19 سینیئر افسروں کو بلا وجہ حیلے بہانے سے بر طرف کردیا گیا ہے۔

سورس کے مطابق ملازمین کو بلا وجہ مستعفی ہونے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہےا ور انکار کرنے والوں کو جبری بر طرف کردیا جاتا ہے ۔ افغانستان کی موجودہ رجیم میں ملازموں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں اور نہ ہی کوئی قانونی حقوق حاصل ہیں، جس کی وجہ سے ملازمین کی نوکری طالبان کے مقررکردہ محکموں کے سربراہان کے رحم وکرم پر ہے۔ سورس کے مطابق ایک سینئر افسر محمد طلحہ فارانی کو مستعفی ہونے کا کہا گیا، انکار پر سکیورٹی کو حکم دیا گیا کہ اسے دفتر میں داخل نہ ہونے دیا جائے ۔ تین روز تک اسے دفتر کے دروازے پر توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا گیا، جس پر وہ استعفیٰ دینے پر مجبور ہوگیا۔

اس کی جگہ پر اسی روز طالبان کے ہرات میں تعینات قندھاری کمانڈرمولوی رئیس الرحمٰن کے چھوٹے بھائی ذہین اللہ کا تقرر کردیا گیا۔ ذہین اللہ کوئٹہ کے ایک مدرسے سے صرف چار درجات تک پڑھا ہوا ہے اور صرف لکھنے پڑھنے کی معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک افسر حماد علی نے متقی کے گالی دینے پر احتجاج کیا تو اسے فوری طور پر بر طرف کرکے سکیورٹی سے تشدد کروایا گیا اور اس کی جگہ بھی ایک پشتون طالبان کو بھرتی کرلیا گیا۔ جن لوگوں کو بر طرف کرکے اس کی جگہ کم تعلیم یافتہ اور اناڑی پشتون طالبان کو بھرتی کیا گیا ہے، اس میں مائنز اینڈ گرینری کے ڈائریکٹر انجینئر فرحت، پائیدار ترقی کے اہداف کے ڈائریکٹر انجینئر طاہر، محکمہ پائیدار ترقی کے ڈائریکٹر حمید اللہ امیری بھی شامل ہیں، ان تینوں انجینئرز کی جگہ جن طالبان کو بھرتی کیا گیا ہے ، مختلف مدارس سے معمولی تعلیم یافتہ ہیں، تینوں میں سے کوئی ایک بھی کسی مدرسے سے بھی مکمل تعلیم یافتہ نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین

پاکستان اور رومانیہ نے کراچی اور کونسٹانٹا کی بندرگاہوں کے درمیان معاشی و تکنیکی تعاون کے لیے ایک اہم مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں

March 31, 2026

اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینی قیدیوں کے لیے لازمی سزائے موت کا قانون منظور کر لیا ہے، جسے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ایک منظم ریاستی جبر اور غیر انسانی اقدام قرار دے رہی ہیں

March 31, 2026

عدالتی کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 20 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جبکہ کیس کی 284 پیشیاں ہوئیں۔

March 31, 2026

سندھ کی سرزمین پر ننگے پاؤں چلنے والی اس بیٹی کی جدوجہد دراصل اس سماج کو جھنجھوڑنے کی ایک سعی تھی، جہاں وڈیرہ شاہی کی جڑیں قانون کی کتابوں سے کہیں زیادہ گہری دکھائی دیتی ہیں۔ ایک ہی دن میں باپ کا سایہ، دادا اور چچا کا چھن جانا کوئی معمولی سانحہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس بغاوت کی قیمت تھی جو ایک بلند عزم خاتون نے مروجہ سرداری نظام کے خلاف ادا کی

March 31, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.