لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

طالبان حکومت میں میرٹ کی جگہ شخصی وفاداریوں کو ترجیح

سورس کے مطابق ملازمین کو بلا وجہ مستعفی ہونے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہےا ور انکار کرنے والوں کو جبری بر طرف کردیا جاتا ہے ۔ افغانستان کی موجودہ رجیم میں ملازموں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں اور نہ ہی کوئی قانونی حقوق حاصل ہیں، جس کی وجہ سے ملازمین کی نوکری طالبان کے مقررکردہ محکموں کے سربراہان کے رحم وکرم پر ہے
سورس کے مطابق ملازمین کو بلا وجہ مستعفی ہونے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہےا ور انکار کرنے والوں کو جبری بر طرف کردیا جاتا ہے ۔ افغانستان کی موجودہ رجیم میں ملازموں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں اور نہ ہی کوئی قانونی حقوق حاصل ہیں، جس کی وجہ سے ملازمین کی نوکری طالبان کے مقررکردہ محکموں کے سربراہان کے رحم وکرم پر ہے

سورس کے مطابق ملازمین کو بلا وجہ مستعفی ہونے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہےا ور انکار کرنے والوں کو جبری بر طرف کردیا جاتا ہے ۔ افغانستان کی موجودہ رجیم میں ملازموں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں اور نہ ہی کوئی قانونی حقوق حاصل ہیں

March 31, 2026

ہرات کے صوبائی محکمہ تحفظ ماحولیات کو ہرات میںنسلی تطہیر کا آپریشن شروع، نئے سربراہ عبدالعلی متقی نے محکمے کوقندھاری پشتونوں کا مرکز بنانے کے لئے مقامی افسروں کی بر طرفیوں کی مہم شروع کردی ہے۔ جس میں گزشتہ ایک ہفتے میں 3ذیلی ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان سمیت کم ازکم 19 سینیئر افسروں کو بلا وجہ حیلے بہانے سے بر طرف کردیا گیا ہے۔

سورس کے مطابق ملازمین کو بلا وجہ مستعفی ہونے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہےا ور انکار کرنے والوں کو جبری بر طرف کردیا جاتا ہے ۔ افغانستان کی موجودہ رجیم میں ملازموں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں اور نہ ہی کوئی قانونی حقوق حاصل ہیں، جس کی وجہ سے ملازمین کی نوکری طالبان کے مقررکردہ محکموں کے سربراہان کے رحم وکرم پر ہے۔ سورس کے مطابق ایک سینئر افسر محمد طلحہ فارانی کو مستعفی ہونے کا کہا گیا، انکار پر سکیورٹی کو حکم دیا گیا کہ اسے دفتر میں داخل نہ ہونے دیا جائے ۔ تین روز تک اسے دفتر کے دروازے پر توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا گیا، جس پر وہ استعفیٰ دینے پر مجبور ہوگیا۔

اس کی جگہ پر اسی روز طالبان کے ہرات میں تعینات قندھاری کمانڈرمولوی رئیس الرحمٰن کے چھوٹے بھائی ذہین اللہ کا تقرر کردیا گیا۔ ذہین اللہ کوئٹہ کے ایک مدرسے سے صرف چار درجات تک پڑھا ہوا ہے اور صرف لکھنے پڑھنے کی معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک افسر حماد علی نے متقی کے گالی دینے پر احتجاج کیا تو اسے فوری طور پر بر طرف کرکے سکیورٹی سے تشدد کروایا گیا اور اس کی جگہ بھی ایک پشتون طالبان کو بھرتی کرلیا گیا۔ جن لوگوں کو بر طرف کرکے اس کی جگہ کم تعلیم یافتہ اور اناڑی پشتون طالبان کو بھرتی کیا گیا ہے، اس میں مائنز اینڈ گرینری کے ڈائریکٹر انجینئر فرحت، پائیدار ترقی کے اہداف کے ڈائریکٹر انجینئر طاہر، محکمہ پائیدار ترقی کے ڈائریکٹر حمید اللہ امیری بھی شامل ہیں، ان تینوں انجینئرز کی جگہ جن طالبان کو بھرتی کیا گیا ہے ، مختلف مدارس سے معمولی تعلیم یافتہ ہیں، تینوں میں سے کوئی ایک بھی کسی مدرسے سے بھی مکمل تعلیم یافتہ نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *