کابل: افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے، جہاں افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) کے بعد نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) اور نیشنل انڈیپینڈنس فرنٹ نے بھی حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق منگل کی شام نیشنل انڈیپینڈنس فرنٹ نے صوبہ پروان کے علاقے گل غنڈی میں ایک ہوٹل پر کار بم حملہ کیا، جہاں طالبان کا اجتماع جاری تھا۔ حملے کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں تاہم فوری طور پر درست تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی طالبان کے خلاف جاری مزاحمتی مہم کا حصہ ہے اور مزید تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائیں گی۔
دوسری جانب نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے بھی صوبہ کنڑ میں طالبان کے ایک عسکری مرکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس میں کم از کم تین طالبان اہلکار ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
تاحال طالبان کی جانب سے ان حملوں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی ان دعوؤں کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کے مختلف علاقوں میں بیک وقت متعدد مزاحمتی گروپوں کی سرگرمیوں میں اضافہ طالبان حکومت کیلئے ایک نئے سکیورٹی چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے، خاص طور پر شمالی اور مشرقی صوبوں میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
دیکھئیے:جھل مگسی کے تھانہ کوٹرا پر فتنہ الخوارج کا حملہ؛ 11 سالہ بچہ شہید، دو حملہ آور ہلاک