چندی گڑھ: بھارتی شہر چندی گڑھ میں پنجاب بی جے پی کے دفتر کے باہر ہونے والے ہائی انٹینسٹی دھماکے کی ذمہ داری سکھ علیحدگی پسند رہنما سکھجندر سنگھ ببر نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ سکیورٹی اداروں نے تحقیقات تیز کر دی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دھماکہ یکم اپریل کی شام تقریباً 4 بج کر 45 منٹ پر سیکٹر 37 میں بی جے پی دفتر کے قریب روٹری بلڈ بینک کی دیوار کے ساتھ ہوا۔ دھماکے سے قریبی گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس، سکیورٹی اور فرانزک ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں دستی بم حملے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تحقیقات کے دوران ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں دو مشتبہ افراد کو جائے وقوعہ کے قریب دیکھا گیا، پولیس اس فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت کی کوشش کر رہی ہے۔
ادھر سکھجندر سنگھ ببر نے سوشل میڈیا بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ایک پیغام ہے، تاہم حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ماضی میں بھی بی جے پی رہنماؤں کو دھمکیاں دی جا چکی ہیں۔ جولائی 2024 میں متعدد رہنماؤں کو دھمکی آمیز خطوط اور دھماکہ خیز مواد بھیجا گیا تھا، جس پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا حالیہ دھماکہ ان سابقہ واقعات سے جڑا ہوا ہے یا نہیں، جبکہ چندی گڑھ اور اطراف میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔