دھماکے کے فوراً بعد شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

April 3, 2026

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس کو بند کرنے یا محدود کرنے کی دھمکی عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔

April 3, 2026

بشریٰ انصاری، شاہد آفریدی سمیت کئی نمایاں شخصیات نے خصوصی پیغامات میں شہریوں کو غیر ضروری ایندھن کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیا۔

April 2, 2026

پاکستان امن اور علاقائی استحکام کا حامی ہے، تاہم اپنی خودمختاری کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہے۔ “پاکستان کا ردعمل تیز، متوازن اور فیصلہ کن ہوگا۔”

April 2, 2026

کامیابی کے بعد عاصم خان سیمی فائنل میں پہنچ گئے ہیں، جہاں ان سے مزید بہتر کارکردگی کی توقع کی جا رہی ہے۔

April 2, 2026

نئی قیمتوں کے نفاذ کے بعد ملک بھر میں مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔

April 2, 2026

جنگ نہیں، انجام اہم ہے: پاکستان کا عرب دنیا کو پیغام، فقط مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں، اسلام آباد کا مؤقف

امریکہ پہلے ہی ایران کے ہزاروں اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے اور اس کے فوجی و ریاستی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ مزید عسکری کارروائی سے کیا حاصل ہوگا اور کون سا ہدف باقی رہ گیا ہے۔
عرب ممالک میں پاکستان کے کردار پر تنقید پر پاکستان کا جواب

انہوں نے خبردار کیا کہ 9 کروڑ آبادی والے ملک میں زمینی مداخلت نہ صرف پیچیدہ بلکہ طویل اور غیر یقینی نتائج کی حامل ہوگی، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔

April 2, 2026

اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں پاکستان کے مصالحتی کردار پر تنقید کے جواب میں ایک نیا مؤقف سامنے آیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اصل سوال جنگ لڑنے کا نہیں بلکہ اس کے انجام کو سنبھالنے کا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بعض عرب حلقے پاکستان پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ثالثی کے بجائے جنگی صف بندی کا حصہ بنے، تاہم پاکستانی مؤقف کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ سوچ خطے کو مزید تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

ماہرین نے نشاندہی کی کہ امریکہ پہلے ہی ایران کے ہزاروں اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے اور اس کے فوجی و ریاستی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ مزید عسکری کارروائی سے کیا حاصل ہوگا اور کون سا ہدف باقی رہ گیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ 9 کروڑ آبادی والے ملک میں زمینی مداخلت نہ صرف پیچیدہ بلکہ طویل اور غیر یقینی نتائج کی حامل ہوگی، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق سب سے اہم پہلو “جنگ کا خاتمہ” ہے۔ اگر جنگ ختم کرنے کی حکمت عملی واضح نہ ہو تو کوئی بھی عسکری کامیابی دیرپا امن میں تبدیل نہیں ہو سکتی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اسی تناظر میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ ایک ایسا سیاسی حل نکالا جا سکے جو تمام فریقین کیلئے قابلِ قبول ہو اور خطہ مزید عدم استحکام سے بچ سکے۔

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیرونی طاقتیں وقت کے ساتھ اپنے مفادات کے تحت خطہ چھوڑ سکتی ہیں، لیکن علاقائی ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ ہی رہنا ہے، اس لیے مستقل دشمنی کے بجائے مستقبل کے استحکام پر توجہ ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی شکست خوردہ فریق کو مکمل طور پر دیوار سے لگانا تاریخ میں خطرناک نتائج کا سبب بنا ہے، اس لیے ایک باعزت اور متوازن حل ہی دیرپا امن کی ضمانت ہو سکتا ہے۔

پاکستانی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کا مؤقف جذباتی نہیں بلکہ تجربے پر مبنی ہے، جہاں جنگ کے بجائے اس کے انجام کو سنبھالنے کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ خطے میں پائیدار استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

دیکھئیے:پاکستان اور ناروے کے درمیان تاریخی موسمیاتی معاہدہ: گرین سرمایہ کاری اور کاربن کریڈٹس کا نیا دور

متعلقہ مضامین

دھماکے کے فوراً بعد شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

April 3, 2026

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس کو بند کرنے یا محدود کرنے کی دھمکی عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔

April 3, 2026

بشریٰ انصاری، شاہد آفریدی سمیت کئی نمایاں شخصیات نے خصوصی پیغامات میں شہریوں کو غیر ضروری ایندھن کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیا۔

April 2, 2026

پاکستان امن اور علاقائی استحکام کا حامی ہے، تاہم اپنی خودمختاری کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہے۔ “پاکستان کا ردعمل تیز، متوازن اور فیصلہ کن ہوگا۔”

April 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *