ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے امریکی میڈیا کی رپورٹس کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ایکس پر جاری اپنے ایک اہم بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ امریکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایران کے موقف کو غلط رنگ میں پیش کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں مذاکرات
سید عباس عراقچی نے اپنے بیان میں پاکستان کے لیے خصوصی طور پر ممنونیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ہم پاکستان کی جانب سے کی جانے والی امن کوششوں کے تہہِ دل سے شکر گزار ہیں اور ہم نے اسلام آباد جانے سے کبھی انکار نہیں کیا۔” ان کا یہ بیان ان افواہوں کے جواب میں سامنے آیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ایران پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات سے کترار ہا ہے۔
Iran's position is being misrepresented by U.S. media.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 4, 2026
We are deeply grateful to Pakistan for its efforts and have never refused to go to Islamabad. What we care about are the terms of a conclusive and lasting END to the illegal war that is imposed on us.
پاکستان زنده باد pic.twitter.com/AUjBQxOFyA
جنگ کا خاتمہ اور ایرانی شرائط
ایرانی وزیرِ خارجہ نے ایران کی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تہران کے لیے سب سے اہم چیز ان شرائط کا تعین ہے جو ایران پر مسلط کردہ ‘غیر قانونی جنگ’ کے ایک حتمی اور پائیدار خاتمے کی ضمانت دے سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران محض عارضی حل کے بجائے ایک ایسا نتیجہ چاہتا ہے جو خطے میں طویل مدتی استحکام کا باعث بنے۔
‘پاکستان زندہ باد’ کا نعرہ ایرانی وزیرِ خارجہ کے اس پیغام کی سب سے نمایاں بات اس کا اختتام تھا، جہاں انہوں نے اردو زبان میں “پاکستان زندہ باد” لکھ کر دونوں ممالک کے درمیان گہرے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کا ثبوت دیا۔ سفارتی حلقوں میں اس اقدام کو پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی اور تہران کے اسلام آباد پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی کے اس بیان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ایران خطے میں امن کی بحالی کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کرتا ہے اور امریکی میڈیا کی جانب سے پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈے کے باوجود تہران اور اسلام آباد کے درمیان سفارتی رابطے انتہائی مضبوط ہیں۔