کابل/قازان: افغانستان میں علاقائی روابط کے فروغ کیلئے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں ایک جانب کابل میں افغانستان-وسطی ایشیا مشاورتی اجلاس جاری ہے، وہیں افغانستان، ترکمانستان اور تاتارستان کے درمیان نئے ٹرانسپورٹ و ٹرانزٹ کوریڈور معاہدے کو بھی حتمی شکل دینے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
کابل میں امارتِ اسلامیہ افغانستان کی وزارت خارجہ کی میزبانی میں ہونے والے پہلے مشاورتی اجلاس میں ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان، کرغزستان اور قازقستان کے نمائندے شریک ہیں، جہاں خطے کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینے پر بات چیت جاری ہے۔
دوسری جانب باخبر ذرائع کے مطابق افغانستان، ترکمانستان اور تاتارستان کے درمیان سہ فریقی ٹرانزٹ کوریڈور معاہدے پر آئندہ دو ماہ میں دستخط متوقع ہیں، جسے قازان فورم کے دوران حتمی شکل دی جائے گی۔
روسی میڈیا کے حوالے سے جاری رپورٹس کے مطابق افغانستان میں روسی تجارتی مرکز کے سربراہ رستم حبیبولین نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ روس اور اسلامی دنیا کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ کوریڈور کو نارتھ ساؤتھ کوریڈور کے متبادل کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد وسطی ایشیا، روس اور افغانستان کے درمیان تجارت کو تیز، کم لاگت اور مؤثر بنانا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے تجارتی راستے سے نقل و حمل کے اخراجات میں کمی اور سامان کی ترسیل کے وقت میں نمایاں کمی آئے گی، جس سے علاقائی تجارت میں اضافہ متوقع ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کابل میں جاری اجلاس اور مجوزہ کوریڈور دونوں اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغانستان خطے میں ایک اہم ٹرانزٹ حب کے طور پر ابھرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط کو بھی مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت خطے میں اقتصادی تعاون کے نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ علاقائی استحکام میں بھی بہتری آئے گی۔