طالبان حکومت نے افغانستان کی نجی جامعات کے طلبہ کے لیے حنفی مسلک کی پیروی اور طالبان کی مخصوص شریعت کو تسلیم کرنے کا حلف نامہ لازمی قرار دے کر تعلیمی اداروں کو نظریاتی کنٹرول میں لے لیا ہے۔

May 25, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے ہانگژو میں علی بابا گروپ کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی اور تکنیکی ترقی کے لیے کئی اسٹریٹجک معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

May 25, 2026

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں نامعلوم مسلح افراد کے ایک مہلک حملے میں متعدد طالبان کمانڈرز، سیکیورٹی اور انٹیلی جنس نیٹ ورکس سے وابستہ اہم افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

May 25, 2026

ٹانک کے گاؤں چیسن کچ میں نامعلوم افراد نے گورنمنٹ مڈل سکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز کو بارودی مواد سے اڑا دیا۔

May 25, 2026

امریکہ ایران معاہدے کی امید پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گر گئیں جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔

May 25, 2026

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے آج ہی معاہدہ طے پانے کا قوی امکان ظاہر کیا ہے، جس کے تحت ساٹھ روزہ جنگ بندی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی متوقع ہے۔

May 25, 2026

افغان الزامات مسترد؛ پاکستان میں دہشتگردی کے حقائق اور زمینی صورتحال

افغان ترجمان کی جانب سے پیش کیا گیا سویلین ہلاکتوں کا بیانیہ دراصل ان کارروائیوں کو متنازع بنانے اور عالمی ہمدردی حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں
پاکستان میں دہشتگردی کی حقیقی صورتحال

افغانستان کی سرزمین مختلف دہشتگرد گروہوں کے استعمال میں ہے اور یہ عناصر نہ صرف پاکستان بلکہ چین اور دیگر ممالک کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

April 5, 2026

افغان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کی جانب سے جاری کردہ انفوگرافک، جس میں فروری 22 سے 4 اپریل 2026 کے دوران پاکستانی فوج پر 741 شہریوں کی ہلاکت کا الزام عائد کیا گیا، کو پاکستانی حکام اور سیکیورٹی ذرائع نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور بے بنیاد پراپیگنڈا قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ بیانیہ ایسے وقت میں سامنے لایا گیا ہے جب پاکستان دہشتگردی کے خلاف ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور سرحدی علاقوں میں شدت پسند نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔

حقیقی صورتحال یہ ہے کہ اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن میں گزشتہ چند برسوں کے دوران 5000 سے زائد پاکستانی شہری شہید ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں سیکیورٹی اہلکار بھی ان حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ ان حملوں میں مساجد، مدارس، امام بارگاہوں اور عوامی مقامات کو خاص طور پر ٹارگٹ کیا گیا، جن میں اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، بنوں اور دیگر شہروں میں بڑے سانحات شامل ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کا مؤقف ہے کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری بڑی حد تک افغان سرزمین سے کی گئی، جہاں دہشتگرد عناصر کو محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔ ان حملوں کے خودکش بمبار بھی افغان شہری تھے اور وہیں ڈے تربیت حاصل کر کے پاکستان آئے تھے۔ پاکستان نے بارہا ثبوت پیش کیے ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے افغان حکومت اور دہشت گرد عناصر کا گٹھ جوڑ ہے جسے بھارت اور دیگر پاکستان دشمن ممالک فنڈ کرتے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر بھی اس امر کی نشاندہی کی جا چکی ہے کہ افغانستان کی سرزمین مختلف دہشتگرد گروہوں کے استعمال میں ہے اور یہ عناصر نہ صرف پاکستان بلکہ چین اور دیگر ممالک کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی اور فتنہ الہندوستان بی ایل اے جیسی تنظیموں کی قیادت اور نیٹ ورک افغانستان میں موجود ہیں، جہاں سے وہ پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

اسی تناظر میں پاکستان نے “آپریشن غضب للحق” شروع کیا ہے، جس کا مقصد دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بنانا ہے تاکہ ملک میں امن و استحکام بحال کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں اور ان کا ہدف صرف دہشتگرد عناصر ہیں، نہ کہ عام شہری۔ تجزیہ کاروں کے مطابق افغان ترجمان کی جانب سے پیش کیا گیا سویلین ہلاکتوں کا بیانیہ دراصل ان کارروائیوں کو متنازع بنانے اور عالمی ہمدردی حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں کہ پاکستان خود دہشتگردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک رہا ہے اور اب اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔

دیکھئیے: دہشت گردی کے لیے افغان مہاجرین کا استعمال؛ وزیرستان آپریشن کے بعد اہم حقائق منظرِ عام پر

متعلقہ مضامین

طالبان حکومت نے افغانستان کی نجی جامعات کے طلبہ کے لیے حنفی مسلک کی پیروی اور طالبان کی مخصوص شریعت کو تسلیم کرنے کا حلف نامہ لازمی قرار دے کر تعلیمی اداروں کو نظریاتی کنٹرول میں لے لیا ہے۔

May 25, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے ہانگژو میں علی بابا گروپ کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی اور تکنیکی ترقی کے لیے کئی اسٹریٹجک معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

May 25, 2026

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں نامعلوم مسلح افراد کے ایک مہلک حملے میں متعدد طالبان کمانڈرز، سیکیورٹی اور انٹیلی جنس نیٹ ورکس سے وابستہ اہم افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

May 25, 2026

ٹانک کے گاؤں چیسن کچ میں نامعلوم افراد نے گورنمنٹ مڈل سکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز کو بارودی مواد سے اڑا دیا۔

May 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *