سکیورٹی تجزیہ کار مائیکل کوگل مین کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو اب بھی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے ٹی ٹی پی کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، جس کے باعث طالبان اتحادی شدت پسند گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی سے مسلسل گریز کرتے آ رہے ہیں۔
مائیکل کوگل مین کے مطابق ٹی ٹی پی اب بھی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے فائدہ اٹھا رہی ہے، جبکہ افغان طالبان اس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔
تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے ٹی ٹی پی کے ساتھ دیرینہ تعلقات ان کے لیے اس گروہ کے خلاف مؤثر اقدامات میں بنیادی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان متعدد اعلیٰ سطحی رابطوں اور مذاکرات کے باوجود ٹی ٹی پی کے مسئلے پر کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
چین کی ثالثی میں ہونے والی سفارتی کوششیں بھی ٹی ٹی پی کے معاملے میں کوئی مؤثر پیش رفت لانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔
مائیکل کوگل مین کے مطابق موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ٹی ٹی پی کا خطرہ اب بھی خطے کے لیے ایک مستقل سکیورٹی چیلنج ہے، جس کے فوری حل کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔
دیکھیے: المرصاد کا بیانیہ بے نقاب: طالبان کو ثالث دکھانے کی کوششیں یو این رپورٹ نے ناکام بنا دیں