کابل میں اہم علاقائی کانفرنس
کابل: افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کابل میں منعقد ہونے والے “افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے مشاورتی مذاکرات” کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان چین کی میزبانی میں مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہے، جبکہ یہ عمل گزشتہ جمعرات سے جاری ہے۔
یہ اجلاس افغان وزارت خارجہ کی میزبانی میں منعقد ہوا جس میں ازبکستان، کرغزستان، ترکمانستان، تاجکستان اور قازقستان کے اعلیٰ سطح کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کو خطے میں ایک اہم سفارتی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، جہاں علاقائی تعاون، اقتصادی روابط اور سیاسی ہم آہنگی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
علاقائی حکمت عملی: معیشت، رابطہ کاری اور تعاون
مولوی امیر خان متقی نے واضح کیا کہ افغانستان اپنی جغرافیائی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے وسطی ایشیا کو مغربی ایشیا سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ اجلاس اقتصادی تعاون، تجارت، ٹرانزٹ، ریلوے، ماحولیاتی تحفظ اور علاقائی ترقی کے منصوبوں کے فروغ کیلئے ایک اہم قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون میں پیشرفت ہوئی ہے اور اب دونوں اطراف ایک “تعاون اور مواقع” پر مبنی بیانیہ تشکیل پا رہا ہے۔ افغان حکومت اس بات کی خواہاں ہے کہ وہ علاقائی منصوبوں میں فعال کردار ادا کرے تاکہ اقتصادی استحکام اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے
افغانستان میں استحکام کا دعویٰ
افغان وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ افغانستان میں طویل عرصے کے بعد اب مکمل استحکام اور امن قائم ہو چکا ہے، حکومتی نظام مضبوط ہو رہا ہے اور بدعنوانی کا خاتمہ کیا جا چکا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دعویٰ مکمل طور پر زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتا، کیونکہ بین الاقوامی رپورٹس اب بھی افغانستان میں مختلف شدت پسند گروہوں کی موجودگی اور علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرتی ہیں۔
عالمی و علاقائی تناظر
افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں جہاں ایک طرف ایشیا میں اقتصادی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، وہیں مغربی ایشیا جنگ اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کو مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کیلئے باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔
پاکستان کے ساتھ مذاکرات: کشیدگی کم کرنے کی کوشش
اجلاس کے دوران سب سے اہم پیشرفت افغان وزیر خارجہ کی جانب سے یہ تصدیق تھی کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان چین کی میزبانی میں مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کیلئے سنجیدہ ہے اور اس سلسلے میں کوششیں جاری ہیں۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان مسلسل افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ پاکستانی مؤقف واضح ہے کہ امن اور استحکام اسی وقت ممکن ہے جب افغانستان اپنی سرزمین کو دہشتگرد گروہوں کے استعمال سے روکے۔
علاقائی تناظر میں پاکستان کی اہمیت
تجزیہ کاروں کے مطابق اس اجلاس میں پاکستان کا ذکر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ افغانستان خطے میں استحکام کیلئے اسلام آباد کے کردار کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ چین کی میزبانی میں جاری مذاکرات اس بات کا اشارہ ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطے برقرار ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں ایک اہم سکیورٹی اور اقتصادی کھلاڑی ہے، اور افغانستان کے ساتھ اس کے تعلقات نہ صرف دوطرفہ سطح پر بلکہ پورے خطے کے استحکام کیلئے بھی اہم ہیں۔
حقیقی تعاون یا محض بیانات:
تجزیہ کاروں کے مطابق کابل میں ہونے والا یہ اجلاس خطے میں ایک اہم سفارتی پیشرفت ہے، جہاں افغانستان نے بیک وقت وسطی ایشیا کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ مذاکرات اور بیانات عملی اقدامات میں تبدیل ہوں گے یا محض سفارتی سطح تک محدود رہیں گے، کیونکہ خطے میں پائیدار امن کا دارومدار زمینی حقائق اور ٹھوس فیصلوں پر ہے۔