"> یو اے ای ڈپازٹ واپسی، مالی استحکام کا اشارہ: زرمبادلہ ذخائر 21.79 ارب ڈالر تک پہنچ گئے؛ معاشی اعتماد میں اضافہ - HTN Urdu یو اے ای ڈپازٹ واپسی، مالی استحکام کا اشارہ: زرمبادلہ ذخائر 21.79 ارب ڈالر تک پہنچ گئے؛ معاشی اعتماد میں اضافہ
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

یو اے ای ڈپازٹ واپسی، مالی استحکام کا اشارہ: زرمبادلہ ذخائر 21.79 ارب ڈالر تک پہنچ گئے؛ معاشی اعتماد میں اضافہ

آئی ایم ایف پروگرام اور دوست ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے بیرونی مالی پوزیشن کو بہتر بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جون 2025 تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر بڑھ کر تقریباً 14.51 ارب ڈالر ہو گئے، جو جون 2024 میں تقریباً 9.39 ارب ڈالر تھے۔
یو اے ای قرض واپسی

معاشی حلقوں کے مطابق مارچ 2026 کے آخر تک پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر تقریباً 21.79 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔

April 5, 2026

اسلام آباد: متحدہ عرب امارات کو طویل مدتی ڈپازٹ کی واپسی کو ماہرین نے پاکستان کی بہتر ہوتی مالی صورتحال اور بڑھتے ہوئے زرمبادلہ ذخائر کا واضح اشارہ قرار دیا ہے، جس سے بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

معاشی حلقوں کے مطابق مارچ 2026 کے آخر تک پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر تقریباً 21.79 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ 2022 میں پاکستان کو شدید بیلنس آف پیمنٹس بحران کا سامنا تھا، جب اسٹیٹ بینک کے ذخائر 7 ارب ڈالر سے بھی کم سطح تک گر گئے تھے، تاہم اس کے بعد حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے معاشی اصلاحات اور بیرونی کھاتوں کے استحکام کیلئے اقدامات کیے گئے۔

حکام کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام اور دوست ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے بیرونی مالی پوزیشن کو بہتر بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جون 2025 تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر بڑھ کر تقریباً 14.51 ارب ڈالر ہو گئے، جو جون 2024 میں تقریباً 9.39 ارب ڈالر تھے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 میں بھی یہ بہتری کا رجحان برقرار ہے، اور ذخائر 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مالی استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یو اے ای کے ڈپازٹ کی واپسی کو مالی دباؤ کے بجائے پاکستان کی ادائیگی کی صلاحیت اور پالیسی اعتماد کا اظہار سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ ملک اپنی بیرونی ذمہ داریاں بغیر کسی بڑے عدم استحکام کے پورا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر زرمبادلہ ذخائر مستحکم ہیں اور مالیاتی ساکھ بہتر ہو رہی ہے تو ایسی ادائیگیاں ایک مثبت اشارہ سمجھی جاتی ہیں، نہ کہ بحران کی علامت۔

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان برادرانہ تعلقات مضبوط ہیں، اور مالی معاملات میں پیش رفت ان تعلقات کے تسلسل کی عکاسی کرتی ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان اپنی معاشی اصلاحات جاری رکھتے ہوئے مالی نظم و ضبط اور بیرونی استحکام کو مزید مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہے۔

دیکھئیے:یو اے ای کے قرض کی واپسی کا مطلب کیا ہے؟

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *