اسلام آباد: پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مالی ڈپازٹ کی واپسی سے متعلق قیاس آرائیوں کو حکام اور سفارتی حلقوں نے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ ایک معمول کی مالی کارروائی ہے اور دونوں ممالک کے مضبوط اسٹریٹجک تعلقات پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔
دفتر خارجہ اور حکومتی ذرائع کے مطابق یو اے ای کے ڈپازٹ کی واپسی موجودہ دوطرفہ مالی معاہدوں کے تحت ایک معمول کا عمل ہے، جسے تعلقات میں کسی کمزوری کے طور پر پیش کرنا حقائق کے منافی ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جو دفاعی، معاشی، ثقافتی اور سماجی شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ پاکستان نے ماضی میں یو اے ای کی مسلح افواج کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا، جس میں کمانڈو یونٹس کی ٹریننگ اور عسکری تعاون شامل ہے۔
معاشی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان گہرے روابط موجود ہیں، جہاں تقریباً 16 لاکھ پاکستانی یو اے ای میں مقیم ہیں، جو وہاں کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط پل کا کام کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستانی افرادی قوت نے یو اے ای کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے، جس میں انفراسٹرکچر، بندرگاہوں، سڑکوں اور خدمات کے شعبے شامل ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان مذہبی اور ثقافتی رشتے بھی انتہائی مضبوط ہیں، جو مشترکہ اسلامی ورثے اور عوامی روابط کے ذریعے مزید مستحکم ہوتے رہے ہیں۔
حکام کے مطابق 2024 میں پاکستان اور یو اے ای کے درمیان 3 ارب ڈالر سے زائد کے سرمایہ کاری اور تعاون کے معاہدے بھی طے پائے، جن میں انفراسٹرکچر، لاجسٹکس اور تجارت کے شعبے شامل ہیں۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ 2025 اور 2026 میں اعلیٰ سطحی روابط اور ملاقاتوں کے ذریعے دونوں ممالک نے اپنے اسٹریٹجک شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا اور تجارت، توانائی اور علاقائی استحکام کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
ماہرین کے مطابق معمول کی مالی ادائیگیاں جیسے ڈپازٹ کی واپسی، اس گہرے اور دیرینہ تعلق کو متاثر نہیں کر سکتیں جو باہمی اعتماد، مشترکہ مفادات اور مسلسل تعاون پر مبنی ہے۔
حکام نے واضح کیا کہ پاکستان اور یو اے ای کی شراکت داری خطے کے استحکام کیلئے کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور کسی بھی قسم کی قیاس آرائی اس مضبوط تعلق کو متاثر نہیں کر سکتی۔