اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) کی حالیہ رپورٹ نے افغانستان اور پاکستان کے مابین سرحدی تناؤ کے انسانی پہلوؤں کو تو اجاگر کیا ہے، مگر اس رپورٹ کا تفصیل سے جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک مخصوص اور یکطرفہ بیانیے کی ترویج کر رہی ہے۔ ماہرینِ خارجہ امور کے مطابق طالبان کے زیرِ تسلط ماحول میں تیار کی گئی اس رپورٹ میں آزادانہ تصدیق کا فقدان ہے اور یہ مکمل طور پر کابل حکومت کے فراہم کردہ ڈیٹا پر منحصر ہے۔ یہ رپورٹنگ تیزی سے طالبان انتظامیہ کو ایک ‘مظلوم فریق’ کے طور پر پیش کر رہی ہے، جس کا مقصد عالمی برادری کی توجہ ان اصل اسباب سے ہٹانا ہے جو خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔
شہروں میں دہشت گرد نیٹ ورک
رپورٹ میں اسکولوں، مساجد اور طبی مراکز کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر تو کیا گیا ہے، لیکن اس کلیدی حقیقت کو منظم طریقے سے خارج کر دیا گیا ہے کہ ان میں سے کئی مقامات درحقیقت دہشت گردوں کی تربیت گاہیں، اسلحہ کے ذخائر اور کمانڈ ہب کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ افغان طالبان اور ان کی سرپرستی میں کام کرنے والی تحریک طالبان پاکستان ایک طویل المدتی حکمت عملی کے تحت شہری آبادی کو ‘انسانی ڈھال’ کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ دہشت گردانہ ڈھانچے کو شہریوں کے درمیان پیوست کرنا ایک سوچی سمجھی جنگی چال ہے تاکہ فوجی کارروائیوں کو روکا جا سکے اور جانی نقصان کی صورت میں اسے سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔
رپورٹ میں تضادات
او سی ایچ اے کی یہ رپورٹ خود اقوام متحدہ کے اپنے نظام کے اندر ایک سنگین تضاد پیدا کر رہی ہے۔ ایک طرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیمیں، ‘سگار’ اور دیگر بین الاقوامی ادارے افغانستان کو 20 سے زائد دہشت گرد گروہوں کا مرکز قرار دے رہے ہیں، جہاں 23 ہزار سے زائد جنگجو (بشمول القاعدہ اور داعش) محفوظ پناہ گاہوں میں موجود ہیں، تو دوسری طرف او سی ایچ اے کی انسانی ہمدردی کی رپورٹنگ ان حقائق کو یکسر نظر انداز کر رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر جانبداری کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اسے طالبان کے ساتھ ایک ‘عملی ملی بھگت’ سے تعبیر کیا جا رہا ہے، کیونکہ بصورتِ دیگر کابل حکومت ان اداروں کو افغانستان میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔
دہشت گردی کی پناہ گاہیں
افغانستان اس وقت بین الاقوامی دہشت گردی کی ایک ایسی آماجگاہ بن چکا ہے جس کے اثرات سرحد پار براہِ راست محسوس کیے جا رہے ہیں۔ سال 2025 میں ٹی ٹی پی کی جانب سے کیے گئے 600 سے زائد حملے اور 2021 سے اب تک 8,000 سے زائد پاکستانیوں کی شہادتیں اس تلخ حقیقت کا ثبوت ہیں۔ جانی نقصان کے اعداد و شمار پیش کرتے وقت یہ رپورٹیں اکثر عام شہریوں اور دہشت گردوں کے کمپاؤنڈز میں مقیم ان کے خاندانوں کے درمیان فرق کو واضح نہیں کرتیں، جس سے بین الاقوامی سطح پر زمینی حقائق کے بارے میں غلط تاثر قائم ہو رہا ہے۔
امداد کا استحصال
افغانستان ہیومینیٹیرین فنڈ اور دیگر امدادی رقوم کی تقسیم پر طالبان کا سخت کنٹرول ایک اور تشویشناک پہلو ہے۔ تزویراتی ماہرین کا مطالبہ ہے کہ افغانستان کے لیے امداد کو ٹی ٹی پی، داعش اور القاعدہ کے خلاف طالبان کی تصدیق شدہ کاروائیوں سے سختی سے مشروط کیا جانا چاہیے۔ امداد کی ترسیل کے لیے آزادانہ میکانزم ناگزیر ہے، کیونکہ طالبان حکومت اس امداد پر نہ صرف ٹیکس لگاتی ہے بلکہ اسے اپنے جبر اور دہشت گردی کے ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے موڑ دیتی ہے۔
ذمہ داری کا تعین
سرحدوں کی بندش، معاشی تعطل اور انسانی ہمدردی کا دباؤ کسی بیرونی اقدام کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کو پناہ دینے کی دانستہ پالیسی کا شاخسانہ ہے۔ بارہا سفارتی رابطوں اور انتباہ کے باوجود دہشت گردانہ ڈھانچے کو ختم کرنے سے انکار، انتہا پسند نیٹ ورکس کے ساتھ کابل انتظامیہ کے گٹھ جوڑ کی عکاسی کرتا ہے۔ بنیادی حقیقت یہ ہے کہ طالبان دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں اور انسانی ہمدردی کے بیانیے کو ڈھال بنا کر عدم استحکام برآمد کر رہے ہیں، جبکہ 4 کروڑ افغان عوام اس کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔
دیکھیے: کابل حملے میں شہری مرکز کو نہیں ڈرون فیکٹری کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان نے متضاد دعوے مسترد کر دئیے