خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ دہشت گرد گروہ ‘ٹی ٹی جی’ نے صوبے میں اپنی کاروائیوں کو منظم کرنے کے لیے باضابطہ کمانڈ اسٹرکچر کا اعلان کر دیا ہے، جسے ماہرین پاکستان کے استحکام کے خلاف ایک منظم جنگی مشینری کی تیاری قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی جی نے ‘تلواڑ’ نامی دہشت گرد کو جنرل رسپانسبل کمانڈر مقرر کیا ہے، جبکہ خیبر، بنوں اور وانا کے علاقوں کے لیے مخصوص نائب کمانڈروں کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی ہے۔ یہ نیا ڈھانچہ کالعدم ٹی ٹی پی کے “زونل کمانڈ” ماڈل کی ہو بہو نقل ہے، جس کا مقصد خودکش حملوں، آئی ای ڈی دھماکوں اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کو زیادہ مہلک اور منظم بنانا ہے۔
خفیہ انتظامی ڈھانچے کا خطرہ
رپورٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ بنوں اور خیبر جیسے اضلاع میں انتظامی کرداروں کی تقسیم دراصل ایک ‘متوازی حکومت’ (شیڈو گورننس) قائم کرنے کی کوشش ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے مقامی شہریوں کی آزادی اور تحفظ کو براہِ راست خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایسے ڈھانچوں کے قیام کے بعد بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور انتہا پسندانہ بیانیے کی مخالفت کرنے والوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں تیزی آ جاتی ہے۔
مجلسِ عسکری اور ٹی ٹی پی
تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ٹی ٹی جی نے ‘مجلسِ عسکری’ اور ٹی ٹی پی کے ساتھ مکمل ہم آہنگی پیدا کر لی ہے۔ وسائل اور انٹیلیجنس کا یہ اشتراک شمال مغربی سرحدی پٹی میں دہشت گردی کی ہلاکت خیزی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ اس اتحاد کا مقصد سرحد پار دہشت گردی کو فروغ دینا اور ریاست و شہریوں پر مسلسل حملوں کے ذریعے خیبر پختونخوا کو مستقل طور پر غیر مستحکم کرنا ہے۔
سکیورٹی حکام اس نئی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ دہشت گردوں کے ان مذموم عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔