جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایران اور لبنان پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ کارروائیاں دانستہ اور منصوبہ بندی کے تحت کی جا رہی ہیں تاکہ سیز فائر کو ناکام بنایا جا سکے۔

April 8, 2026

جب ان سے پوچھا گیا کہ آخر ایسی کیا کمی رہ گئی، تو انہوں نے ایک بار پھر طنز کرتے ہوئے کہا کہ “شاید مجھ میں کیلشیم کی کمی ہے، اسی لیے ایوارڈ نہیں دے رہے”، جس پر میزبان بھی ہنس پڑے۔

April 8, 2026

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں حزب اللہ کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔

April 8, 2026

شاہین آفریدی کا کہنا تھا کہ مذاکرات اور استحکام کے فروغ کیلئے قومی قیادت کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں اور یہ پیش رفت انسانیت کی جیت ہے۔

April 8, 2026

ضلعی انتظامیہ پہلے ہی سیکیورٹی خدشات کے باعث جلسے کی اجازت مسترد کر چکی تھی، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے مطابق شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور موجودہ حالات میں جلسہ منعقد کرنا خطرناک ہو سکتا تھا۔

April 8, 2026

حال ہی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان چین کے شہر ارومچی میں اہم مذاکرات مکمل ہوئے تھے، جن میں سرحدی سکیورٹی، دہشت گردی اور کشیدگی کم کرنے کے امور پر بات چیت کی گئی تھی۔

April 8, 2026

پاکستان نے بڑی جنگ رکوا دی، عالمی سطح پر بااعتماد ثالث کے طور پر تسلیم، مودی فارغ ہو چکا: خواجہ آصف

خواجہ آصف کی بھارت پر تنقید

خواجہ آصف نے کہا کہ “سب کو مبارک ہو، اللہ نے پاکستان کو دنیا بھر میں عزت دی، آج عالمی طاقتیں اور عرب ممالک سمیت پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں۔”

April 8, 2026

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایران۔امریکا جنگ بندی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کی ایک بڑی جنگ رکوانے میں کامیاب ہوا اور عالمی سطح پر ایک بااعتماد ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ “سب کو مبارک ہو، اللہ نے پاکستان کو دنیا بھر میں عزت دی، آج عالمی طاقتیں اور عرب ممالک سمیت پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ کل تک جنگ کے گہرے بادل چھائے ہوئے تھے لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی، جس کے بعد پاکستان ایک نئے سیاسی اور سفارتی دور میں داخل ہو رہا ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت سے ملک میں استحکام آئے گا اور اب توجہ معیشت کی بحالی پر مرکوز کی جا سکے گی۔

انہوں نے سول و عسکری قیادت کے اشتراک کو سراہتے ہوئے کہا کہ “ہائبرڈ ماڈل” نے گزشتہ چند برسوں میں اہم کامیابیاں حاصل کیں اور یہ ثابت کیا کہ قومی قیادت یکجا ہو تو پاکستان عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

خواجہ آصف نے بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “مودی فارغ ہو گیا، اس کے پاس کچھ نہیں رہا، بھارتی میڈیا اب تڑپتا رہے گا”، اور دعویٰ کیا کہ پاکستان نے بڑے دشمن کو سفارتی محاذ پر شکست دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کو داخلی محاذ، معیشت اور دہشت گردی کے چیلنجز پر توجہ دینا ہوگی، جبکہ افغانستان کو بھی پاکستان کی میزبانی کا لحاظ کرنا چاہیے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی نے خطے میں اس کے کردار کو مزید مضبوط کیا ہے، تاہم داخلی استحکام اور معاشی بہتری اب اگلا بڑا چیلنج ہوگا۔

دیکھئیے:عالمی ثالث کے طور پر سوئٹزرلینڈ کا دور ختم: پاکستان اب عالمی سفارت کاری کا نیا مرکز ہے، سوئس اخبار ‘بلک’ کا انکشاف

متعلقہ مضامین

جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایران اور لبنان پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ کارروائیاں دانستہ اور منصوبہ بندی کے تحت کی جا رہی ہیں تاکہ سیز فائر کو ناکام بنایا جا سکے۔

April 8, 2026

جب ان سے پوچھا گیا کہ آخر ایسی کیا کمی رہ گئی، تو انہوں نے ایک بار پھر طنز کرتے ہوئے کہا کہ “شاید مجھ میں کیلشیم کی کمی ہے، اسی لیے ایوارڈ نہیں دے رہے”، جس پر میزبان بھی ہنس پڑے۔

April 8, 2026

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں حزب اللہ کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔

April 8, 2026

شاہین آفریدی کا کہنا تھا کہ مذاکرات اور استحکام کے فروغ کیلئے قومی قیادت کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں اور یہ پیش رفت انسانیت کی جیت ہے۔

April 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *