تہران: ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں پر فی بیرل ایک ڈالر ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ایرانی پیٹرولیم ایکسپورٹرز یونین کے ترجمان حامد حسینی نے کہا ہے کہ یہ ٹول ٹیکس تیل بردار جہازوں سے کرپٹو کرنسی کی صورت میں وصول کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کا جائزہ لے کر اس سے فیس وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اور اس مقصد کیلئے ایک باقاعدہ نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل سپلائی کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، ایسے میں کسی بھی قسم کا ٹیکس یا رکاوٹ عالمی قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ اقدام خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اسٹریٹجک قدم ہو سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
دیکھئیے:کابل کے زیرِ اثر رپورٹنگ: اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ زمینی حقائق مسخ کرنے کی دانستہ کوشش قرار