امریکہ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کی ڈیڈ لائن سے صرف دو گھنٹے قبل پاکستان نے خاموش مگر مؤثر سفارت کاری کے ذریعے ایک دو ہفتوں کی جنگ بندی ممکن بنائی، جس نے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔ یہ معاہدہ 7 اپریل کو ٹرمپ کی مقررہ ڈیڈ لائن سے محض 90 منٹ پہلے سامنے آیا، جس کے بعد امریکی اور اسرائیلی حملے رک گئے اور آبنائے ہرمز کی بحالی اور اسلام آباد میں براہ راست مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔
اس سفارتی کامیابی کی خاص بات یہ تھی کہ یہ روایتی اجلاسوں یا عوامی بیانات کے بجائے بیک چینل رابطوں کے ذریعے حاصل کی گئی۔ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ عاصم منیر نے اس عمل کی قیادت کی اور براہ راست امریکی اور ایرانی حکام سے رابطے میں رہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے سیاسی سطح پر حمایت فراہم کی، جبکہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکی، سعودی عرب اور مصر سمیت علاقائی حمایت کو یقینی بنایا۔
ذرائع کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی بعض مواقع پر وزیراعظم شہباز شریف سے براہ راست رابطے میں رہے۔ ایرانی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اس عمل میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے، جو ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے۔
امریکی جانب سے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو اسٹیو وٹکاف کلیدی مذاکرات کار تھے، جبکہ صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس بھی اہم مراحل پر براہ راست جنرل عاصم منیر سے گفتگو کرتے رہے۔ ان تمام رابطوں میں سفارت خانوں کو زیادہ تر نظر انداز رکھا گیا اور زیادہ تر بات چیت خفیہ انداز میں ہوئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام سفارتی رابطے تیز رفتار اور خفیہ انداز میں انکرپٹڈ ایپس کے ذریعے کیے گئے، جہاں ایران کے ساتھ واٹس ایپ اور امریکہ کے ساتھ سگنل کے ذریعے پیغامات اور کالز کا تبادلہ ہوتا رہا۔ ماہرین کے مطابق اس طریقہ کار نے وقت کی بچت اور میڈیا کی مداخلت سے بچاؤ کو ممکن بنایا۔
یہ سفارتی عمل مارچ میں ابتدائی رابطوں سے شروع ہوا اور 6 اور 7 اپریل کو فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوا، جب امریکہ کی جانب سے ایران کے توانائی انفراسٹرکچر پر حملے کی ڈیڈ لائن قریب تھی۔ پاکستان نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز پیش کی، جسے ایک متوازن حل قرار دیا گیا تاکہ مذاکرات کے لیے مناسب وقت حاصل ہو سکے۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی اس کوشش کو بھرپور سراہا گیا۔ اٹلی کے سابق وزیر اعظم سمیت متعدد عالمی رہنماؤں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے امن کے قیام میں اہم پیش رفت قرار دیا۔ ترکی، انڈونیشیا، ملائیشیا، جاپان، جرمنی، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت کئی ممالک نے بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کو تسلیم کیا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی کامیابی کی بنیادی وجہ اس کے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں، جو برسوں کی مستقل اور صبر آزما سفارت کاری کا نتیجہ ہیں۔ یہی اعتماد آخری لمحات میں فیصلہ کن ثابت ہوا، جس کے باعث امریکہ اور ایران دونوں پاکستان کی ثالثی پر متفق ہوئے۔
اگرچہ اسرائیل اس معاہدے کا باضابطہ حصہ نہیں، تاہم امریکہ نے اس بات کی ذمہ داری لی کہ وہ اسرائیل کو اس عمل پر آمادہ کرے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال اب بھی حساس ہے، خاص طور پر لبنان کے معاملے پر۔
اب نظریں 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہیں، جہاں امریکہ اور ایران پہلی بار آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ مذاکرات مشکل ہوں گے اور فوری نتائج کی توقع نہیں کی جا سکتی، تاہم پاکستان کا کردار اس پورے عمل میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ عمل کامیاب رہا تو پاکستان نہ صرف اس جنگ بندی بلکہ مستقبل کے کسی بھی ممکنہ امن معاہدے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا، اور خطے میں ایک اہم سفارتی مرکز کے طور پر ابھرے گا۔
نوٹ: کاظم عالم کا یہ آرٹیکل ٹی آر ٹی ورلڈ میں شائع ہوا۔ کاپی رائٹ حقوق ادارہ محفوظ رکھتا ہے۔
دیکھیے: پاکستان نے بڑی جنگ رکوا دی، عالمی سطح پر بااعتماد ثالث کے طور پر تسلیم، مودی فارغ ہو چکا: خواجہ آصف