وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر عمر عبداللہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ بندی میں پاکستان کے سفارتی کردار کی کھلے دل سے تعریف کرتے ہوئے اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں عمر عبداللہ نے کہا کہ موجودہ عالمی تناظر میں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان نے وہ کر دکھایا جو باقی ممالک کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے جنگ بندی کے عمل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، خواہ اس کے لیے پاکستان نے ہی کلیدی کردار کیوں نہ ادا کیا ہو۔
عمر عبداللہ نے بھارتی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات بھارت کے لیے سفارتی محاذ پر کمزوری ثابت ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جنگ صرف اسرائیل کی خواہش تھی اور اگر ہم اسرائیل کے اتنے قریب نہ ہوتے تو بھارت بھی وہی مصلحانہ کردار ادا کر سکتا تھا جو پاکستان نے کر کے دکھایا ہے”۔
مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ کے اس بیان کو سیاسی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ انہوں نے نہ صرف پاکستان کی سفارتی برتری کا اعتراف کیا ہے بلکہ خطے میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور اس کے بھارتی مفادات پر پڑنے والے منفی اثرات کی جانب بھی اشارہ کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عمر عبداللہ کا یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان کی حالیہ امن کوششوں نے نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ خود بھارت کے زیرِ انتظام علاقوں میں بھی رائے عامہ کو متاثر کیا ہے اور پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں اضافہ ہوا ہے۔