اسلام آباد 11 اپریل کو ایک تاریخی سفارتی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس انتہائی اہم اجلاس کی میزبانی پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کرے گی، جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار شامل ہوں گے۔ یہ اعلیٰ سطحی میزبانی اس بات کی عکاس ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک کلیدی سہولت کار کے طور پر ابھرا ہے اور عالمی طاقتیں اسلام آباد کی سفارتی بصیرت پر مکمل اعتماد کا اظہار کر رہی ہیں۔
امریکی وفد
ان مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکہ کی جانب سے بااثر وفد اسلام آباد پہنچ رہا ہے، جس کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس خود کریں گے۔ امریکی وفد میں وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سابق صدارتی مشیر جیرڈ کشنر شامل ہیں، جن کا مشرقِ وسطیٰ کے امور میں وسیع تجربہ اس عمل کو مزید اہمیت دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ سینٹ کام کے کمانڈر بریڈ کوپر کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان مذاکرات میں سیکیورٹی اور تزویراتی معاملات کو بھی گہرائی سے زیرِ بحث لایا جائے گا۔
ایرانی وفد
اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی ان مذاکرات کی اہمیت کے پیشِ نظر اپنے قدآور سیاسی و سفارتی چہروں کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کریں گے، جبکہ ان کے ہمراہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محمد باقر ذوالقدر جیسے اہم عہدیدار موجود ہوں گے۔ نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی کی موجودگی اس بات کی ضمانت ہے کہ ایران ان مذاکرات کو ایک سنجیدہ سفارتی حل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب 11 اپریل کے اس اجلاس پر مرکوز ہیں، جسے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔