پاکستان کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے شروع کیے گئے “اسلام آباد عمل” کی کامیابیوں نے جہاں دنیا کو حیران کر دیا ہے، وہیں کچھ مخصوص حلقوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈے کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے پریس سیکرٹری ایری فلیشر کا حالیہ ٹویٹ اسی بوکھلاہٹ کا عکاس ہے، جس میں انہوں نے پاکستان کو “غیر محفوظ” قرار دیتے ہوئے امریکی مذاکرات کاروں کی سلامتی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ تاہم اسلام آباد میں موجود امریکی سفارتی عملے کی سرگرمیوں نے ان کے ان بے بنیاد دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
There is good reason to worry about the safety of our negotiators in Pakistan.
— Ari Fleischer (@AriFleischer) April 10, 2026
The country is armed and dangerous and the government is not fully in control.
Previous high level visits were short and they involved decoy aircraft, as when then-President Clinton surreptitiously…
امریکی سفارت کاروں کا طرزِ عمل
ایری فلیشر کے اس دعوے کے برعکس کہ “پاکستان کی حکومت حالات پر قابو نہیں رکھتی”، امریکی ناظم الامور نیٹالی اے بیکر کی حالیہ تصاویر ایک بالکل مختلف کہانی سنا رہی ہیں۔ نیٹالی بیکر کو نہ صرف اسلام آباد بلکہ کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں بھی انتہائی محفوظ اور پرسکون ماحول میں عوامی سرگرمیوں میں مصروف دیکھا گیا ہے۔ ان کی وہ تصاویر جس میں وہ کرکٹ گراؤنڈ میں عام شہریوں کے ساتھ بلے بازی کر رہی ہیں، پی ایس ایل کے میچز میں ہزاروں تماشائیوں کے ساتھ اسٹیڈیم میں موجود ہیں اور ‘لنکن کارنر’ جیسے عوامی مراکز کا دورہ کر رہی ہیں، اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ پاکستان غیر ملکیوں خصوصاً سفارت کاروں کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے۔



ماضی اور دورِ حاضر کا پاکستان
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایری فلیشر 20 سال پرانے واقعات کا حوالہ دے کر 2026 کے حقائق کو جھٹلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ صدر کلنٹن یا صدر بش کے دور کے حفاظتی پروٹوکولز کا آج کے حالات سے موازنہ کرنا بدنیتی پر مبنی ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دے کر ریاست کی رٹ بحال کی ہے، جس کا اعتراف دنیا بھر کی سیکیورٹی ایجنسیاں کر چکی ہیں۔ آسٹریلیا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ جیسی بڑی ٹیموں کے کامیاب دورے اور اب “اسلام آباد عمل” کی میزبانی اس اعتماد کی علامت ہے جو عالمی برادری کو پاکستان پر ہے۔
پراپیگنڈا یا سفارتی حسد؟
سفارتی حلقوں کے مطابق ایری فلیشر جیسے عناصر دراصل پاکستان کے اس بڑھتے ہوئے سفارتی قد کاٹھ سے پریشان ہیں جو اسے امریکہ اور ایران جیسے حریفوں کے درمیان ایک معتبر پل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف ایک محفوظ ملک ہے بلکہ عالمی مسائل کے حل کے لیے ایک موزوں ترین پلیٹ فارم بھی فراہم کرتا ہے۔ امریکی سفارت کاروں کا عوامی مقامات پر عام شہریوں کے ساتھ گھلنا ملنا اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ہے کہ پاکستان میں حفاظتی انتظامات عالمی معیار کے مطابق ہیں اور ایری فلیشر کے خوف و ہراس پھیلانے والے بیانات محض “سفارتی حسد” سے زیادہ کچھ نہیں۔
آج جب اسلام آباد عالمی سفارت کاری کا مرکز بن چکا ہے، ایسی منفی مہم جوئی پاکستان کے ارادوں کو کمزور نہیں کر سکتی۔ ایری فلیشر کے الزامات کا بہترین جواب وہ مسکراتے ہوئے امریکی سفارت کار ہیں جو اسلام آباد کی سڑکوں اور میدانوں میں بلا خوف و خطر گھوم رہے ہیں۔