سید علی شاہ گیلانی کی پانچویں برسی پر ان کی طویل سیاسی جدوجہد، نظریاتی ثابت قدمی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے کردار کو یاد کیا جا رہا ہے۔

September 1, 2026

اسلام آباد کانفرنس میں طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر حکمرانی، خواتین کے حقوق اور سکیورٹی خطرات زیر بحث۔

September 1, 2026

لاہور جنرل ہسپتال کے گائنی وارڈ میں آگ لگنے سے حاملہ خواتین سمیت 70 افراد کو باہر نکال لیا گیا، فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پالیا۔

September 1, 2026

پاکستان 2026-27 کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کونسل کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہباز شریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے۔

September 1, 2026

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا کر 18 دہشت گرد ہلاک کردیئے، فائرنگ کے دوران کیپٹن عبید شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلادھار بارش، متعدد علاقے زیر آب آگئے جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح بڑھ گئی۔

September 1, 2026

افغانستان کا مفلوج نظامِ عدل: من مانی تعبیریں، یرغمال عدالتیں اور انصاف کا زوال

افغانستان میں طالبان نے اختیارات کی تقسیم کا اصول ختم کر کے تفتیش اور فیصلوں کو ایک ہی دائرہ اختیار میں ضم کر دیا ہے۔ خواتین پراسیکیوٹرز کی برطرفی، جیلوں میں قید خواتین میں 435 فیصد اضافہ اور قانون دانوں کے قتل نے افغان عدلیہ کو مکمل مفلوج کر دیا ہے۔
افغانستان کا مفلوج نظامِ عدل

افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد عدالتی نظام، اختیارات کی تقسیم اور انسانی حقوق سے متعلق سنگین سوالات سامنے آئے ہیں۔ سابق افغان اٹارنی جنرل کے مطابق ملک میں انصاف کا ڈھانچہ شدید دباؤ اور تبدیلی سے گزر رہا ہے جس نے قانونی شفافیت اور عدالتی آزادی پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔

May 30, 2026

افغانستان اس وقت تاریخ کے ایک ایسے سنگین، تاریک اور ہولناک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں آئین، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کا تصور عملاً دم توڑ چکا ہے۔ طالبان کے کابل پر دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ملک میں ریاستی اداروں اور عدالتی نظام کو جس بے دردی سے روندا گیا ہے، اس نے نہ صرف افغان معاشرے کو اندرونی طور پر مفلوج کر دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید ترین تشویش اور تنقید کی ایک وسیع لہر دوڑا دی ہے۔ حال ہی میں افغان جریدے اٹلس پریس کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹس اور سابق افغان اٹارنی جنرل فرید حمیدی کے لرزہ خیز بیانات نے ان تلخ زمینی حقائق کو دنیا کے سامنے پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ انکشافات اس امر کی واضح اور غیر مبہم تصدیق کرتے ہیں کہ ملک پر ایک منظم، جابرانہ اور خودسر آمریت مسلط کی جا چکی ہے، جہاں روایتی نظامِ انصاف کو عوامی فلاح کے بجائے ذاتی طاقت اور انتقام کے ایک خوفناک ہتھیار میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

کسی بھی آزاد، مہذب اور مستحکم معاشرے کی بقا کا بنیادی اصول اختیارات کی منصفانہ تقسیم پر قائم ہوتا ہے۔ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کا اپنے اپنے دائرہ کار میں آزاد اور خودمختار رہ کر کام کرنا ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کا ضامن ہوتا ہے، مگر موجودہ افغان سیٹ اپ میں اس بنیادی دستوری اور قانونی تصور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا ہے۔ سابق اٹارنی جنرل فرید حمیدی کے مطابق افغانستان میں اب ایک ایسا خودساختہ اور جابرانہ نظام رائج ہو چکا ہے جہاں نام نہاد طالبان عدالتیں خود ہی فوجداری مقدمات کی تفتیش کرتی ہیں، خود ہی استغاثہ کا کردار ادا کرتی ہیں اور خود ہی من مانے فیصلے صادر کر دیتی ہیں۔

تفتیش، وکالت اور فیصلے کا یہ مجرمانہ ارتکاز نہ صرف مسلمہ بین الاقوامی اصولِ انصاف کے خلاف ہے بلکہ شریعت کے ان اعلیٰ اور آفاقی اصولوں کی بھی صریحاً نفی ہے جو غیر جانبدار تفتیش، گواہوں کی تصدیق اور شفاف عدالتی کارروائی کا سخت تقاضا کرتے ہیں۔ اسلام کی اس مبینہ غلط تشریح اور خودسر تعبیر نے پورے افغان قانونی ڈھانچے کا دھڑن تختہ کر دیا ہے، جس کے باعث فیصلوں کی شفافیت اور اعلیٰ فورمز پر اپیل کے مؤثر راستے اب مکمل طور پر ناپید ہو چکے ہیں۔

اس نظامِ جبر اور ریاستی سختی کا سب سے پہلا اور ہولناک نشانہ افغان خواتین اور خود قانون کے محافظ بنے ہیں۔ طالبان نے اقتدار پر قابض ہوتے ہی تمام خواتین اور خواتین وکلاء کو نہ صرف ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا بلکہ انہیں عملی زندگی اور عدالتی عمل سے مکمل طور پر باہر دھکیل دیا۔ آج یہ خواتین قانون دان نہ صرف اپنی ملازمتوں سے محروم ہیں بلکہ انہیں اپنی اور اپنے خاندان کی جانوں کے تحفظ کے لیے شدید ترین سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔

صنفی توازن کی اس دانستہ تباہی اور عدالتی نظام سے خواتین کی اس جبری بیدخلی کا شاخسانہ یہ نکلا ہے کہ طالبان کے دورِ حکومت میں جیلوں میں قید افغان خواتین کی تعداد میں 435 فیصد کا ہولناک اور غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، اور یہ تعداد اب بڑھ کر 1,825 تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ جب کسی نظامِ عدل سے توازن، ہمدردی اور نصف آبادی کی نمائندگی کو خارج کر دیا جائے، تو وہ نظام ایک متعصب، جابرانہ اور اندھی مشینری میں تبدیل ہو جاتا ہے جو صرف سزا دینا جانتی ہے۔

اس پورے منظرنامے کا سب سے زیادہ لرزہ خیز اور وحشیانہ پہلو قانونی شعبے سے وابستہ افراد کا منظم قتلِ عام ہے۔ سابق اٹارنی جنرل کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک کم از کم 57 پراسیکیوٹرز یا ان کے اہل خانہ کو چن چن کر بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔ قانون کے ان محافظوں اور افسرانِ سداد کی ٹارگٹ کلنگ اس بات کا واشگاف ثبوت ہے کہ افغانستان میں آئین، ضابطے اور عدالت کی جگہ اب ‘بندوق کے قانون’ نے لے لی ہے۔ جو ہاتھ کل تک مجرموں کو کٹہرے میں کھڑا کرتے تھے، آج انہیں وحشت اور بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ آزاد میڈیا پر عائد سخت ترین سنسرشپ، صحافیوں پر پابندیوں اور معلومات تک رسائی کے تمام راستے مسدود ہونے کے باوجود، جو حقائق اور اعداد و شمار باہر آ رہے ہیں، وہ ایک گہرے انسانی، سماجی اور انتظامی المیے کی عکاسی کرتے ہیں۔

عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے ان پامالیوں، عدالتی آزادی کی سلب کاری اور خواتین کے بنیادی حقوق کی پامالی پر مسلسل آواز اٹھائی جا رہی ہے اور کابل کے حکمرانوں پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، لیکن زمینی سطح پر طالبان قیادت کی ہٹ دھرمی اور آمرانہ فیصلوں میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔

اس تناظر میں سب سے اہم اور بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا طاقت کے اس وحشیانہ ارتکاز، دباؤ اور محدود ادارہ جاتی آزادی پر مبنی کوئی نظام طویل مدت میں معاشرتی استحکام، ملکی ترقی اور عوامی اعتماد حاصل کر سکتا ہے؟ تاریخِ عالم اس بات کی گواہ ہے کہ خوف اور جبر کے ذریعے عارضی طور پر تو خاموشی اختیار کروائی جا سکتی ہے، لیکن یہ رویہ معاشرے کے اندر ایک ایسی شدید بے چینی اور لاوے کو جنم دیتا ہے جو کسی بھی وقت ایک بڑے دھماکے کی صورت میں پھٹ سکتا ہے۔

آخرکار، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انصاف اور قانون کی غیر جانبدارانہ حکمرانی ہی کسی بھی ریاست اور معاشرے کی بقا کی اصل بنیاد ہوتی ہے۔ اگر عدالتی ادارے غیر متوازن ہو جائیں، جج اور تفتیش کار خود ہی جلاد بن جائیں، اور عدلیہ پر سے عوام کا رشتہ اور اعتماد مکمل طور پر ٹوٹ جائے، تو اس کے اثرات صرف قانونی دائرے تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ پورے معاشرتی، معاشی اور سیاسی ڈھانچے کو تاش کے پتوں کی طرح بکھیر دیتے ہیں۔

افغانستان کا موجودہ بحران اب محض ایک سیاسی یا انتظامی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک گہرا سماجی اور انسانی المیہ بن چکا ہے۔ اس بحران کا حل کابل کے حکمرانوں کے ضدی اور جابرانہ موقف میں نہیں، بلکہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعمیری روابط، وسیع تر داخلی مکالمے، خواتین کی نظام میں فوری واپسی اور ایک آزاد، خودمختار اور شفاف عدالتی نظام کی بحالی میں ہی پوشیدہ ہے۔ اگر اب بھی اصلاحات نہ کی گئیں، تو یہ سخت گیر اور جابرانہ ڈھانچہ افغانستان کو مزید تنہائی، افلاس اور دائمی تباہی کی تاریک دلدل میں دھکیل دے گا۔

متعلقہ مضامین

سید علی شاہ گیلانی کی پانچویں برسی پر ان کی طویل سیاسی جدوجہد، نظریاتی ثابت قدمی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے کردار کو یاد کیا جا رہا ہے۔

September 1, 2026

اسلام آباد کانفرنس میں طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر حکمرانی، خواتین کے حقوق اور سکیورٹی خطرات زیر بحث۔

September 1, 2026

لاہور جنرل ہسپتال کے گائنی وارڈ میں آگ لگنے سے حاملہ خواتین سمیت 70 افراد کو باہر نکال لیا گیا، فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پالیا۔

September 1, 2026

پاکستان 2026-27 کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کونسل کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہباز شریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے۔

September 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *