خیبر پختونخوا میں بدامنی پھیلانے والی کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے اپنے نیٹ ورک میں توسیع کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے بنوں اور وزیرستان کے سرحدی علاقے میں ایک اہم کاروائی کے دوران مطلوب دہشت گرد کو ہلاک کر دیا ہے۔
کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ لوئر دیر سے تعلق رکھنے والے دو اہم گروہوں نے تنظیم میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ان گروہوں کی قیادت کمانڈر طلحہ اور کمانڈر شریف اللہ کر رہے ہیں، جو اس سے قبل آزادانہ طور پر اور کبھی جماعت الاحرار کے ساتھ مل کر تخریبی سرگرمیاں انجام دیتے رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ان کمانڈروں نے ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کے ہاتھ پر “ہجرت اور جہاد” کی بیعت کی ہے۔
دوسری جانب سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جاری مہم میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ بنوں اور وزیرستان کے سرحدی علاقے میں ہونے والی ایک کارروائی کے دوران خطرناک دہشت گرد مدثر لارون ہلاک ہو گیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشت گرد مدثر لارون قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پولیس اسٹیشنز پر حملوں اور سنگین مقدمات میں مطلوب تھا۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، ٹی ٹی پی کی جانب سے نئے گروہوں کی شمولیت کے دعوے دراصل اپنی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن کو سہارا دینے کی کوشش ہیں، تاہم فورسز کی مسلسل کاروائیاں ان کے نیٹ ورک کو کمزور کر رہی ہیں۔