ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر اپنی تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی کی رفتار میں نمایاں اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جاری معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاری میں اضافے کی بدولت پاکستان کی جی ڈی پی مالی سال 2027 تک 4.5 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
معاشی نمو اور استحکام کے اشارے
ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح، جو مالی سال 2026 میں 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے، مالی سال 2027 میں بڑھ کر 4.5 فیصد تک جا پہنچے گی۔ اس مثبت رجحان کی بڑی وجہ ملک میں صنعت سازی کے شعبے میں بہتری اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں بتدریج اضافہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی ڈھانچہ جاتی اصلاحات نے معیشت کو نہ صرف مستحکم کیا ہے بلکہ اسے ایک نئی رفتار بھی فراہم کی ہے۔
مہنگائی اور عالمی خطرات
اے ڈی بی نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث مالی سال 2026 میں مہنگائی کی شرح 6.4 فیصد اور مالی سال 2027 میں 6.5 فیصد تک رہ سکتی ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کا تنازع طول پکڑتا ہے تو اس سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، ترسیلاتِ زر میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے جیسے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے میکرو اکنامک ڈسپلن کا تسلسل ضروری ہے۔
عالمی معیشت میں پاکستان کا کردار
رپورٹ میں اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنی معیشت کو مضبوط بنا رہا ہے بلکہ عالمی کشیدگی کو کم کرنے اور بین الاقوامی منڈیوں کو مستحکم کرنے میں بھی اپنا کلیدی سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کو ملکی معیشت کے لیے خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے ڈی بی کی یہ رپورٹ “ابھرتے اور سنورتے پاکستان” کے اس بیانیے کی تائید کرتی ہے جو پائیدار معاشی ترقی اور استحکام پر مبنی ہے۔
دیکھیے: قومی اتحاد ہی بنیاد: اداروں کی ہم آہنگی اور عوامی حمایت سے پاکستان کے عالمی کردار میں اضافہ