کلیکٹیو سکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن نے افغانستان کی موجودہ صورتحال اور وہاں دہشت گرد تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سی ایس ٹی او کے مطابق افغانستان سے ابھرنے والے سکیورٹی خطرات کی سنگینی برقرار ہے، جو نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
سی ایس ٹی او کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں فعال عسکریت پسند گروہ وہاں کے کمزور طرزِ حکومت اور انتظامی خلا کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جس کی تصدیق حالیہ دنوں میں بین الاقوامی جرائد، بشمول سری لنکن میڈیا نے بھی کی ہے۔
رکن ممالک کے لیے چیلنجز
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان کے پڑوسی ممالک، بالخصوص تاجکستان اور کرغزستان جیسے سی ایس ٹی او کے رکن ممالک کو سرحد پار دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور مسلح جتھوں کی غیر قانونی نقل و حرکت جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی موجودگی اور وہاں عسکریت پسندوں کی بلا روک ٹوک سرگرمیاں رکن ممالک کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
علاقائی سلامتی پر اثرات
سی ایس ٹی او کے حکام کا ماننا ہے کہ جب تک افغانستان کی سرزمین پر دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کاروائی نہیں کی جاتی، تب تک وسطی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ یاد رہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کے دیگر ممالک بھی کابل سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے وعدے پر عمل درآمد یقینی بنائے۔