سعودی کمپنی آرامکو پاکستان میں 10 ارب ڈالر مالیت کی آئل ریفائنری کے منصوبے میں شراکت داری کرے گی، جس میں پاکستان اسٹیٹ آئل او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل شامل ہوں گی۔

April 10, 2026

پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس حنین نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف عملے کو بحفاظت منتقل کیا بلکہ جہاز پر موجود ماہر ٹیم نے فوری طبی امداد فراہم کی اور آگ بجھانے میں بھی مدد دی۔

April 10, 2026

افغانستان کو صرف ایک انسانی بحران کے طور پر دیکھنا ایک محدود اور خطرناک نقطہ نظر ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جہاں انسانی مسائل اور سیکیورٹی خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور انہیں الگ کر کے سمجھنا ممکن نہیں۔

April 10, 2026

یہ پاکستان ویمن ٹیم کی انٹرنیشنل فٹبال میں سب سے بڑے مارجن سے فتح ہے، اس سے قبل قومی ٹیم نے مالدیپ کو 0-7 سے شکست دی تھی۔

April 10, 2026

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور سیکیورٹی ادارے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں تاکہ حملے کی نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے

April 10, 2026

افغان وزیرِ ہائر ایجوکیشن شیخ ندا محمد ندیم نے کابل یونیورسٹی کے دورے کے دوران ادب کے ایک طالب علم کو ازبک ٹوپی پہننے پر سرِعام تھپڑ مار دیا۔ عینی شاہدین نے واقعے کو نسلی تذلیل اور ثقافتی شناخت پر حملہ قرار دیا ہے

April 10, 2026

سفارتی بنیان المرصوص اور خدشات

دنیا جوہری تصادم اور یقینی تباہی کے دہانے پر تھی جب پاکستان کو اس کارِ خیر کے لیے منتخب کیا گیا۔ “سفارتی بنیان المرصوص” کے ذریعے کروڑوں زندگیاں بچائی گئیں اور سول ملٹری الائنس کے دلیرانہ کردار نے اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو روک دیا۔ ابلیسی قوتوں کی سازشیں ناکام ہوئیں اور پاکستان “پیس میکر” بن کر ابھرا ہے
دنیا جوہری تصادم اور یقینی تباہی کے دہانے پر تھی جب پاکستان کو اس کارِ خیر کے لیے منتخب کیا گیا۔ "سفارتی بنیان المرصوص" کے ذریعے کروڑوں زندگیاں بچائی گئیں اور سول ملٹری الائنس کے دلیرانہ کردار نے اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو روک دیا۔ ابلیسی قوتوں کی سازشیں ناکام ہوئیں اور پاکستان "پیس میکر" بن کر ابھرا ہے

پاکستان کا "سفارتی بنیان المرصوص" مشن؛ دنیا کو جوہری تباہی سے بچا لیا۔ سول ملٹری الائنس کا تاریخی کردار، صیہونی عزائم کی ناکامی اور پڑوسی ملک کے حسد کی حقیقت۔ مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال اور مستقبل کے جنگی خدشات پر مبنی تزویراتی مشاہدہ

April 10, 2026

دنیا دم سادھے بیٹھی تھی، سانسیں رکی ہوئی تھیں۔ عالمی منڈیاں یقینی اور غیر یقینی کے پینڈولم میں جھول رہی تھیں۔ جوہری تصادم محض چند گھنٹوں کی دوری پر تھا۔ خوف اور ناامیدی کی فضا میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس کارِ خیر کے لیے پاکستان کو منتخب کر چکا تھا۔ فخر و تکبر، فرعونیت و انا زمین بوس ہونے کو تھی۔ تب آسمانوں سے فیصلہ صادر ہوا اور چند لمحوں میں ہی پاکستان دنیا بھر کی تشکر بھری نگاہوں کا مرکز بن چکا تھا۔ اپنے تو اپنے دشمنوں کو بھی چونکا دیا۔ شدید معاشی، سیاسی اور جغرافیائی دباؤ کے درمیان سفارتی “بنیان المرصوص” نے صہیونی توسیع پسندانہ عزائم کو روک لگا دی۔ اس تمام کاوش کو “سفارتی بنیان المرصوص” کا نام دینا بے جا نہ ہو گا۔ فرمانِ الٰہی ہے: “جس نے ایک انسان کی زندگی بچائی، اس نے گویا پوری انسانیت کی جان بچائی”۔ سفارتی بنیان المرصوص میں ایک انسان کی نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیاں بچائی گئیں۔ دنیا کو ایک یقینی تباہی سے بچانے کے لیے سول ملٹری الائنس کا ایسا دلیرانہ و دانشمندانہ کردار انسانی تاریخ میں شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔ عالمی رہنما، برادری اور میڈیا پاکستان کے مثبت کردار کو بڑے پیمانے پر سراہ رہے ہیں۔ پڑوسیوں کی بدنیتی سے ایف اے ٹی ایف سے شروع ہونے والا سفر صبر، استقامت اور لازوال قربانیوں کے بعد بالآخر “پیس میکر پاکستان” پر آ کر رکا۔ جب بھی پاکستان کو مٹانے کے لیے ابلیسی قوتیں حرکت میں آئیں، رب السماوات والارض کا فیصلہ بھی فوراً آیا۔ 28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے، ثلاثہ کے خلاف مئی 2025 کی فتح مبین اور اب پاکستان کو گھیر کر تباہ کرنے کی سازش بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی۔ کوئی تو ہے جو نہ صرف پاکستان کو بیچ منجدھار سے بچا بچا کر نکال رہا ہے، بلکہ پہلے سے زیادہ عزت و شرف بھی بخش رہا ہے، جس میں عقل رکھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔

پاکستان کو ملنے والی عزت و تکریم سے بدنیت پڑوسی اپنے ہی حسد میں جل بھن رہا ہے۔ وہاں ایک سوگ سی کیفیت طاری ہے۔ “بے شک اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے”۔ بدفطرت پڑوسی کی فرسٹریشن شدید خوف میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ اس خوف کا پہلا نتیجہ منظر عام پر آ چکا ہے۔ عالمی امن کے لیے کیے گئے معاہدے کے چوبیس گھنٹوں بعد بھارت کی ریاست بہار میں بی جے پی کے ایک دہشت گرد نے دن دہاڑے سڑک پر مسلمان کا سر کاٹ کر دھڑ سے الگ کر دیا۔ سرحد پار سے ملنے والے باوثوق ذرائع کے مطابق مودی حکومت و انتہا پسند مذہبی حلقوں میں ایک ہی موضوع زیر بحث ہے کہ پاکستان کو ملنے والے شرف سے اگر بھارتی مسلمانوں کی حمیت بیدار ہو گئی، تو بھارت میں ایک اور پاکستان بننے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔

دنیا بھر میں امن سے محبت کرنے والوں کی دیرینہ خواہش تو یہی ہے کہ یہ عارضی جنگ بندی مستقل جنگ کا خاتمہ بن جائے، لیکن اس سارے منظر نامے کا دوسرا رخ بھی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگوں کو ترتیب دینے و دجالی بیانیہ کو جاری رکھنے والوں کو عالمی امن کے لیے کیا گیا ثالثی کا کردار اتنی آسانی سے ہضم نہیں ہو گا۔ عیار و بزدل دشمن اپنی بدفطرتی کی بنا پر موقع ملنے پر وار کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ بہرحال یہ خدشات موجود ہیں۔ اعلانِ بالفور، خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے، پاکستان کو دو لخت کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں “تہذیبوں کے تصادم” کی آڑ میں شروع ہونے والی خونریز تبدیلیوں کی نوعیت روایتی جنگوں سے ہمیشہ مختلف رہی ہے۔ یہ ایک ایسے بیانیے کی جنگوں کا سلسلہ ہے جس میں ایک دھتکاری ہوئی قوم اپنے خاتمے سے بچاؤ کے لیے پوری دنیا کے امن کو نیست و نابود کرنے سے دریغ نہیں کر رہی۔ جب تک قرآن و سنت کی رہنمائی اور گزشتہ صدی کے دوران ہونے والی معاشی، سیاسی، جغرافیائی تبدیلیوں کا تزویراتی مشاہدہ نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک موجودہ سنگین منظر نامے کو سمجھنا محال ہے۔ ایک طرف امن کی پیش رفت کی امید، دوسری طرف کشیدگی کا خوف تو تیسری طرف پراکسی قوتوں کی فعال موجودگی سمیت بیانیے کے خاتمے کے خوف نے اس ساری صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی گزشتہ تین سال کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد حوصلہ افزا آثار نظر نہیں آ رہے۔ حزب اللہ کے چیف نعیم قاسم کے بھتیجے و پرسنل سیکرٹری علی یوسف حارشی کی شہادت کے دعوے سمیت بیروت میں تازہ ترین حملوں میں سینکڑوں شہریوں کی ہلاکتوں، ٹرمپ و نیتن یاہو کی جانب سے حزب اللہ پر حملے جاری رکھنے پر اصرار، فریقین کی جانب سے لبنان کو معاہدے میں شامل کرنے یا نہ کرنے پر زور، راقم کے موقف کی تائید ہے۔

7 اکتوبر 2023 کو حماس اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والا تصادم چھٹی بڑی جنگ تھی۔ جس کی پہلی عارضی جنگ بندی نومبر 2023 میں ہوئی۔ پھر ایک ہفتے بعد دوبارہ خوفناک جنگ کا آغاز ہوا۔ دوسری دفعہ جنگ بندی کا معاہدہ جنوری 2025 میں ہوا۔ اس کے باوجود غزہ پر بمباری اور قتل و غارت گری کا سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ غزہ و مغربی کنارے کے بہت سے حصوں پر قابض ہو کر وہاں یہودی بستیاں بسانے کی حتمی منظوری دے دی گئی ہے، جو درحقیقت خطے میں اشتعال انگیزی کو مزید موقع فراہم کرے گا۔ جون 2025 میں ایران اسرائیل کے درمیان تصادم اور 12 روز بعد جنگ بندی؛ 28 فروری 2026 کو اسی جنگ کا دوبارہ ہولناک آغاز اور 7 اپریل کو دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی۔ اس دوران مئی 2025 کو بھارت کا اپنے آقاؤں کی درپردہ حمایت سے پاکستان پر حملہ؛ بالآخر بھارت کی دہائی پر جنگ بندی ہوئی۔ اس کے باوجود دونوں ملکوں میں اب بھی شدید تناؤ جاری ہے۔ ایران اسرائیل جنگ کے دوران خلیجی ممالک پر ہونے والے حملوں سمیت سعودی عرب و پاکستان کو ملوث کرنے کی ہولناک سازش خوف زدہ بیانیے کا ہی تسلسل ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری جنگوں کی بار بار عارضی جنگ بندیوں کا ٹوٹنا اور نئے سرے سے جنگوں کی پیش بندیاں کرنا ان خدشات کو جنم دے رہے ہیں کہ ثالثی کی مستقل جنگ بندی کی بیل منڈھے چڑھتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی۔ راقم کی رائے میں ہمارے اسٹیک ہولڈرز اور تھنک ٹینک، دجالی خوفزدہ بیانیے، زمینی حقائق اور موجودہ و مستقبل میں کسی بھی غیر متوقع جنگی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے ٹھوس بنیادوں پر فکری، نظریاتی، معاشی اور عسکری منصوبہ بندیاں و پالیسیاں مرتب کریں۔

متعلقہ مضامین

سعودی کمپنی آرامکو پاکستان میں 10 ارب ڈالر مالیت کی آئل ریفائنری کے منصوبے میں شراکت داری کرے گی، جس میں پاکستان اسٹیٹ آئل او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل شامل ہوں گی۔

April 10, 2026

پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس حنین نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف عملے کو بحفاظت منتقل کیا بلکہ جہاز پر موجود ماہر ٹیم نے فوری طبی امداد فراہم کی اور آگ بجھانے میں بھی مدد دی۔

April 10, 2026

افغانستان کو صرف ایک انسانی بحران کے طور پر دیکھنا ایک محدود اور خطرناک نقطہ نظر ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جہاں انسانی مسائل اور سیکیورٹی خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور انہیں الگ کر کے سمجھنا ممکن نہیں۔

April 10, 2026

یہ پاکستان ویمن ٹیم کی انٹرنیشنل فٹبال میں سب سے بڑے مارجن سے فتح ہے، اس سے قبل قومی ٹیم نے مالدیپ کو 0-7 سے شکست دی تھی۔

April 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *