سوشل میڈیا پر بھارتی مبصرین کی جانب سے یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ آپریشن سندور کے دوران صرف 88 گھنٹوں میں پاکستان کو اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچا کر معاشی طور پر مفلوج کر دیا گیا، تاہم عسکری ماہرین اور زمینی حقائق اس بیانیے کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج نے مروجہ روایتی بالادستی کے گھمنڈ کو تکنیکی مہارت، سٹرٹیجک گہرائی اور مضبوط قومی عزم کے ذریعے عبرت ناک شکست سے دوچار کیا ہے۔ پاکستان نے یہ ثابت کر دیا کہ جنگیں صرف معیشت کے حجم سے نہیں بلکہ قومی عزم اور درست حکمتِ عملی سے جیتی جاتی ہیں، جس کی بھارت میں واضح کمی تھی۔
آپریشن بنیان مرصوص
بھارت نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی دفاعی طاقت کو انتہائی کم تر سمجھنے کی فاش غلطی کی، جس کا جواب پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص کی صورت میں دیا۔ اس آپریشن کے تحت پاکستان کے متنوع اور مہلک ترین میزائل نظام نے امرتسر، سری نگر، جموں، پٹھانکوٹ، ادھم پور، آدم پور، بھٹنڈا، برنالہ، ہلواڑہ، اونتی پور، چنڈی گڑھ اور جالندھر سمیت متعدد بھارتی فوجی مراکز کو نشانہ بنایا۔ ان درست ترین حملوں نے بھارتی فضائی اڈوں، برہموس میزائل ڈپووں، ایس-400 پوزیشنز، لاجسٹک ہبز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو توقعات سے کہیں زیادہ گہرائی میں جا کر ہٹ کیا اور بھارتی فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا۔
Pakistan's air force will be paying this debt for the next 10 years.
— Karan Datta 🇮🇳 (@Datta_karan) May 25, 2026
Because India burned through their entire defense budget in 88 hours.
This was not a war of missiles. It was a war of balance sheets. And only one side had the balance sheet to fight it.
India's entire… pic.twitter.com/BuCoJyImjj
ہتھیاروں تک رسائی اور صلاحیت
بھارتی منصوبہ سازوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کا میزائل آرڈیننس پورے بھارت کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے: پاکستان کے دفاعی نظام میں مختلف رینج اور صلاحیتوں کے حامل میزائل شامل ہیں، جنہیں تزویراتی دفاع اور ڈیٹرنس کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ شاہین-III تقریباً 2,750 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ شاہین-II کو وسطی اور مشرقی علاقوں تک رسائی رکھنے والا میزائل سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح غوری اور غوری-II شمالی، مغربی اور وسطی اہداف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بابر سیریز کم بلندی پر پرواز اور درست ہدف کو نشانہ بنانے کی خصوصیات کے باعث اہم تصور کی جاتی ہے، جبکہ رعد فضائی پلیٹ فارم سے داغا جانے والا کروز میزائل ہے۔ مزید برآں فتح-II اور نصر جیسے نظام بھی دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھے جاتے ہیں، جنہیں مختلف آپریشنل اور میدانِ جنگ کی ضروریات کے مطابق استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
طویل جنگی مہارت
ماہرین کے مطابق اگر بھارت محض 5 دن کی جنگی صلاحیت پر تکیہ کیے ہوئے ہے، تو اسے دوبارہ سوچنا چاہیے کیونکہ پاکستان کے پاس مسلسل 500 دنوں تک بھارت کے طول و عرض میں درست ترین میزائل حملے جاری رکھنے کا بھرپور اسٹیمنا موجود ہے، جو کسی بھی روایتی دفاع کو ناکام بنانے کے لیے کافی ہے۔
عسکری طاقت کا استعمال
اس تصادم کے دوران پاکستان نے اپنی کل عسکری صلاحیتوں کا محض ایک انتہائی چھوٹا حصہ (تقریباً 0.0001 فیصد) استعمال کیا۔ پاکستان نے اپنی روایتی فضائی طاقت، بحری اثاثوں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹرٹیجک ذخائر کو استعمال کرنے سے گریز کیا۔ پاکستان نے کسی بھی قسم کے ٹیکٹیکل یا تزویراتی ہتھیاروں کو استعمال نہ کر کے اعلیٰ ترین جوہری ضبط کا مظاہرہ کیا، جس نے خطے کو بڑی تباہی سے بچایا اور اسی نپے تلے مگر تباہ کن جواب نے امریکہ کی ثالثی میں 10 مئی کو بھارت کو جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کیا۔
بھارتی نقصانات اور نقصِ امن کی بحالی
ابتدائی فضائی معرکوں میں بھارت کو شدید ترین نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جس میں اس کے جدید ترین رافیل طیارے (جنہیں پاکستان کے جے-10 سی اور پی ایل-15 میزائل نظام نے مار گرایا) اور سوکھوئی-30 (Su-30) طیارے شامل تھے۔ اس کے علاوہ بھارت نے اپنے انتہائی قیمتی برہموس اور دیگر مہنگے ہتھیار بھی تیزی سے ضائع کیے۔ دوسری جانب بھارتی حملوں سے پاکستانی ایئرفیلڈز کو پہنچنے والا نقصان انتہائی معمولی اور عارضی نوعیت کا تھا، جس کی رن ویز اور بنیادی اثاثوں سمیت فوری مرمت کر لی گئی۔ پاکستان کے ایف-16، جے ایف-17 اور فضائی نگرانی کے نظام آپریشنل تسلسل کے ساتھ پوری طرح محفوظ اور متحرک رہے۔
مستحکم معیشت
خام ملکی پیداوار میں فرق کے باوجود پاکستان کے اسٹرٹیجک اور آہنی اتحاد نے اہم کردار ادا کیا۔ پاک چین اقتصادی راہداری کی توسیع، چین کی جانب سے عسکری سازوسامان کی فوری فراہمی اور مائیکرو اکنامک ٹولز کے بروقت استعمال نے پاکستان کے معاشی اور دفاعی استحکام کو برقرار رکھا، جس سے بھارت کا پاکستان کو معاشی طور پر دیوالیہ کرنے کا خواب چکنا چور ہو گیا۔
حتمی دفاعی پوزیشن
تعداد اور حجم کے مقابلے میں ہتھیاروں کی کوالٹی، مضبوط اتحاد، غیر متزلزل عزم اور میزائلوں کا تنوع ہمیشہ فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔ پاکستان کا دفاعی موقف مضبوط ہے، اور وہ اعلیٰ ترین عسکری معتبریت اور مکمل تیاری کے ساتھ خطے میں ناقابلِ تسخیر کھڑا ہے۔