ماسکو: افغانستان کے وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب کے حالیہ دورۂ ماسکو کے دوران روس اور طالبان انتظامیہ کے مابین عسکری اور تکنیکی تعاون کے معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں، جس میں دونوں جانب سے سیکیورٹی روابط کے تسلسل اور باہمی تعلقات کی توسیع پر زور دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی سفارتی اور سلامتی کے ماہرین نے روس کی اس پالیسی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک بڑا تزویراتی تضاد قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عسکری تعاون اس لحاظ سے حیران کن ہے کہ اس معاہدے سے چند روز قبل ہی خود روسی حکام نے افغانستان کے اندر دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر شدید خطرے کی گھنٹی بجائی تھی۔
روسی حکام اور عسکری ڈیل
روسی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ الیگزینڈر بورٹنیکوف اور سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے حال ہی میں ایک باقاعدہ الرٹ جاری کیا تھا جس میں واضح کیا گیا تھا کہ افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد تنظیموں کے 18 ہزار سے 23 ہزار کے قریب دہشت گرد موجود ہیں، جن میں تقریباً 3 ہزار جنگجوؤں کا تعلق داعش خراسان سے ہے۔
روسی جائزوں کے مطابق داعش خراسان روس اور وسطی ایشیا کی مہاجر برادریوں سے بھرتیاں کر رہی ہے اور افغانستان میں انتہا پسندانہ انفراسٹرکچر اور غیر ملکی دہشت گردوں کی آمد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان حقائق کے باوجود طالبان حکومت کے ساتھ فوجی ڈیل کرنا ماسکو کی پالیسی کے واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
امریکی فنڈنگ اور طالبان کے عسکری عزائم
مبصرین کے مطابق طالبان انتظامیہ کو حاصل ہونے والے مالیاتی وسائل اور ان کے عسکری عزائم ایک اور گہرے تزویراتی تضاد کو جنم دے رہے ہیں۔ ایک طرف بین الاقوامی سطح پر تنہا ہونے کے باوجود افغانستان کو امریکہ کی جانب سے ہفتہ وار 40 ملین ڈالر کا نقد فلو مل رہا ہے، تو دوسری طرف طالبان ان مالی وسائل کی موجودگی میں عوامی و انسانی بحران کو حل کرنے کے بجائے عسکری شراکت داریوں کی توسیع اور ہتھیاروں کی خریداری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب افغانستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا ہے، تو ان کی سیکیورٹی توسیع کو برقرار رکھنے والے مالیاتی ذرائع کی جانچ پڑتال کیوں نہیں کی جا رہی؟
فوجی سازوسامان کی منتقلی اور تاریخی شواہد
مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے آنے والا یہ ہفتہ وار نقد فلو بالواسطہ طور پر طالبان کی عسکریت پسندی اور ہتھیاروں کی فراہمی میں مددگار ثابت ہو رہا ہے، جس سے یہ تزویراتی سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ اب بھی طالبان کی عسکری توسیع کی بالواسطہ فنڈنگ کیوں کر رہا ہے۔ امریکی فوج کے انخلا کے وقت چھوڑی گئی فوجی تنصیبات اور وسیع عسکری ذخائر کے بعد، اب روس کے ساتھ یہ نیا دفاعی معاہدہ خطے میں طاقت کے توازن کو مزید بگاڑنے کا سبب بنے گا۔
تاریخی شواہد، بشمول سگار اور اقوامِ متحدہ کی متعدد رپورٹس، پہلے ہی اس بات کی تصدیق کر چکی ہیں کہ افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی عسکری سازوسامان وہاں سرگرم مختلف دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھ لگ چکا ہے۔
افغان سر زمین اور دہشت گرد
سفارتی اور سلامتی کے ماہرین کا متبادل موقف ہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی اور انہیں سازگار ماحول کی فراہمی کوئی مبہم الزام نہیں، بلکہ ایک واضح اور مادی حقیقت ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق افغان سرزمین سے پروان چڑھنے والا یہ ماحولیاتی نظام خطے کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکا ہے، جہاں تحریکِ طالبان پاکستان، داعش خراسان، القاعدہ اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ جیسی تنظیمیں محفوظ پناہ گاہوں کے ساتھ فعال ہیں۔
سرحد پار حملے اور خطرات
اس دہشت گردانہ ماحولیاتی نظام کے اثرات پورے خطے میں نظر آنے لگے ہیں۔ سال 2025 میں پاکستان پر افغان سرزمین سے 600 سے زائد دہشت گردانہ حملے کیے گئے، جب کہ تاجکستان کی سرحد پر ہونے والے ایک اور سرحد پار حملے میں پانچ چینی شہری ہلاک ہوئے۔ ماہرین کا یہ پختہ استدلال ہے کہ طالبان کو عسکری طور پر مضبوط کرنے کا مطلب ایک ایسے عنصر کو طاقتور بنانا ہے جو خطے میں دہشت گردی کے پورے نیٹ ورک کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان، چین، روس، تاجکستان اور وسطی ایشیا کی سلامتی کے لیے ایک سنگین اور براہِ راست خطرہ ہے۔
افغان فنڈز اور عسکری استعمال
اس عسکری تعاون اور ہتھیاروں کی دوبارہ فراہمی سے یہ خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں کہ افغانستان میں داخل ہونے والے مالی و تکنیکی وسائل افغان عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے خطے میں عدم استحکام، انتہا پسندی کے فروغ اور طالبان کے جبر کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ایسے ماحول میں جب دہشت گرد تنظیموں کے بنیادی ڈھانچے کو وہاں دوام مل رہا ہو، کسی بھی بیرونی عسکری شراکت داری کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات خود کار طریقے سے خطے کی جغرافیائی و سیاسی سلامتی کو غیر مستحکم کرنے کا باعث بنیں گے۔