عیدالاضحیٰ کے مقدس اور پرامن دن جب پورا ملک امن و خوشی کے ساتھ تہوار منانے میں مصروف تھا، تحریکِ انتشار نے ایک بار پھر قانون شکنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بدامنی پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ کوئٹہ کے داخلی راستے پر واقع بلیلی چیک پوسٹ پر سیکیورٹی فورسز (ایف سی) اور پی ٹی آئی کے مقامی رہنما حاجی گل خان کے حامیوں کے درمیان تصادم کا واقعہ پیش آیا ہے، جس نے مذکورہ سیاسی جماعت کے منفی طرزِ سیاست کو عیاں کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کوئٹہ کی بلیلی چیک پوسٹ اسمگلنگ اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جہاں ایف سی کے جوان وطن کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے الرٹ کھڑے ہیں۔ حالیہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں چیک پوسٹ پر چیکنگ کے عمل کو مزید سخت کیا گیا ہے تاکہ شرپسند عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔
توڑ پھوڑ اور پتھراؤ
رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کا صوبائی رہنما حاجی گل خان اپنے حامیوں کے ہمراہ ایک موٹر سائیکل ریلی کی قیادت کر رہا تھا۔ قانونی راستہ اختیار کرنے اور تمیز سے اپنا تعارف کروا کر گزرنے کے بجائے، ریلی کے شرکاء نے چور دروازہ استعمال کرنے کی کوشش کی اور متبادل کچے راستے پر قائم عارضی دیوار کو توڑ کر آگے بڑھنے لگے۔ اس غیر قانونی عمل پر جب وہاں تعینات ایف سی اہلکاروں نے انہیں چیلنج کیا، تو ان انتشاری اور شرپسند عناصر نے اشتعال میں آ کر سیکیورٹی فورسز پر شدید پتھراؤ شروع کر دیا۔
جوابی کاروائی
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کی جانے والی فوری جوابی کارروائی پر شرپسند عناصر حسبِ عادت موقع سے بھاگ نکلے۔ اسی بھاگم بھاگ اور مچنے والی بھگدڑ کے دوران ایک کارکن عصمت اچکزئی زمین پر گر گیا، جس کے گھٹنوں پر چوٹیں آئیں۔ ایف سی نے قانون ہاتھ میں لینے والے ان تمام افراد کو موقع پر ہی حراست میں لے کر قانونی کارروائی کے لیے مقامی پولیس کے حوالے کر دیا۔
مظلومیت کا ڈرامہ
اس واقعے کے بعد اپنے جرم کو چھپانے کے لیے جبران نامی شخص کی جانب سے ‘شیطان آفیشل’ سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دکھ بھری اور جذباتی پوسٹس شیئر کی گئیں، جس کا مقصد روایتی طور پر ‘مظلومیت کارڈ’ کھیلنا تھا۔ تاہم سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ یہ تحریکِ انتشار کا پرانا وطیرہ ہے کہ پہلے خود قانون شکنی کرو، سیکیورٹی فورسز پر حملے کرو، چیک پوسٹس توڑنے کی کوشش کرو اور بعد میں خود کو مظلوم ظاہر کر کے ڈرامہ رچاؤ۔
اعترافِ جرم
حقیقت اس کے برعکس رہی کیونکہ حراست میں لیے جانے کے بعد پی ٹی آئی رہنما حاجی گل خان نے خود باضابطہ بیان دیتے ہوئے اپنے کیے کا اعتراف کیا اور اس غیر قانونی عمل پر شدید ندامت ظاہر کی، جس کے بعد انہیں حکام کی جانب سے رہا کر دیا گیا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ عوام اب ان شرپسندوں کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عید جیسے مقدس ایام کو ذاتی اور سیاسی انتشار کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔