7 اپریل کو جب دنیا سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ہولناک الٹی میٹم کے باعث ایٹمی تصادم کے دہانے پر کھڑی تھی کہ “ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو جائے گی”، پاکستان نے ایک عالمی نجات دہندہ کا کردار ادا کیا۔ اس نازک ترین صورتحال میں، جہاں پولی مارکیٹ جیسے عالمی پیش گوئی کے پلیٹ فارمز جنگ بندی کے امکانات کو 5 فیصد سے بھی کم دکھا رہے تھے، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی برق رفتار سفارت کاری نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔
پاکستان کے کلیدی کردار نے امریکہ اور ایران کو امن کی میز پر آمادہ کیا، جس کے نتیجے میں جنگ بندی کے امکانات فوری طور پر 100 فیصد تک پہنچ گئے۔ اس تاریخی کامیابی کا اعتراف واشنگٹن اور تہران دونوں نے عوامی سطح پر کیا ہے۔
عکھربوں ڈالر کا اضافہ
پاکستان کی اس سفارتی فتح کے اثرات محض سیاسی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی زندگی بخش ثابت ہوئے ہیں۔ معروف ماہرِ اقتصادیات عاطف میاں کے تجزیے کے مطابق، جنگ بندی کے یقینی ہوتے ہی عالمی اسٹاک مارکیٹس میں ریکارڈ تیزی دیکھی گئی۔ امریکی انڈیکس میں 2.9 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے عالمی سطح پر مجموعی طور پر 3.6 ٹریلین ڈالر کی دولت میں اضافہ کیا ہے۔
یہ اعداد و شمار اس لحاظ سے حیران کن ہیں کہ پاکستان نے اپنی مجموعی قومی پیداوار سے بھی 10 گنا زیادہ مالیت کا معاشی فائدہ عالمی معیشت کو پہنچایا ہے، جس سے ڈوبتی ہوئی عالمی منڈیوں کو ایک مضبوط تزویراتی سہارا میسر آیا۔
پاکستان کی عالمی ساکھ میں اضافہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کے ٹلنے سے نہ صرف ایک ممکنہ ایٹمی جنگ کا خطرہ ختم ہوا بلکہ پاکستان کی شناخت ایک “گلوبل پیس میکر” کے طور پر ابھری ہے۔ عاطف میاں کے مطابق، پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ عالمی امن کے قیام کے لیے ناگزیر قوت ہے۔ اس غیر معمولی سفارتی اثر و رسوخ نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر تزویراتی توازن برقرار رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
اب توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان اس نئی شناخت کو آگے بڑھاتے ہوئے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر بلکہ اندرونِ ملک بھی امن، رواداری اور شمولیت کی سیاست کو فروغ دے گا تاکہ معاشی اور سفارتی استحکام کا یہ سفر جاری رہ سکے۔