نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی وفد کو الوداع کیا

April 12, 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی پاکستان کے کردار اور میزبانی کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان نے مثبت اور متوازن کردار ادا کیا۔

April 12, 2026

پاکستان کی ساحلی اور بندرگاہی سکیورٹی ایک منظم نظام کے تحت کام کر رہی ہے، اور کسی ایک واقعے کو بنیاد بنا کر بین الاقوامی بحری سرگرمیوں کیلئے خطرے کا تاثر دینا حقائق کے منافی ہو سکتا ہے۔

April 12, 2026

مذاکرات ایک پیچیدہ ماحول میں ہوئے جہاں بداعتمادی پہلے سے موجود تھی، اس لیے ایک ہی نشست میں معاہدہ ہونا ممکن نہیں تھا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام جیسے معاملات انتہائی حساس ہیں اور ان پر فوری اتفاق ممکن نہیں۔

April 12, 2026

قالیباف نے پاکستان کی میزبانی اور مذاکراتی عمل کو آسان بنانے کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے مذاکرات میں نیک نیتی اور سنجیدہ ارادے کے ساتھ شرکت کی، تاہم ماضی کے تجربات کے باعث مخالف فریق پر مکمل اعتماد ممکن نہیں رہا۔

April 12, 2026

شہید ہونے والوں میں نائیک افضل، سپاہی جمیل اور سپاہی عمیر شامل ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کشتی کو ساحل سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ حکام نے اس واقعے کو “زمین سے سمندر کی جانب فائرنگ” قرار دیا ہے۔

April 12, 2026

اسلام آباد مذاکرات کے بعد قالیباف کا پہلا بیان: امریکا ایران کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا

قالیباف نے پاکستان کی میزبانی اور مذاکراتی عمل کو آسان بنانے کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے مذاکرات میں نیک نیتی اور سنجیدہ ارادے کے ساتھ شرکت کی، تاہم ماضی کے تجربات کے باعث مخالف فریق پر مکمل اعتماد ممکن نہیں رہا۔
اسلام آباد مذاکرات کے بعد ایران کا بیان

قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری اور اصولی مؤقف پر قائم ہے، اور ایرانی قوم کے حقوق کے تحفظ کیلئے سفارتکاری کے ساتھ ساتھ دیگر ذرائع کو بھی اہم سمجھتا ہے۔

April 12, 2026

اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد ایرانی وفد کے سربراہ اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا پہلا باضابطہ بیان سامنے آ گیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کی منطق اور اصولوں کو سمجھ چکا ہے، تاہم اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں قالیباف نے پاکستان کی میزبانی اور مذاکراتی عمل کو آسان بنانے کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے مذاکرات میں نیک نیتی اور سنجیدہ ارادے کے ساتھ شرکت کی، تاہم ماضی کے تجربات کے باعث مخالف فریق پر مکمل اعتماد ممکن نہیں رہا۔

انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے مستقبل سے متعلق کئی عملی اقدامات تجویز کیے، لیکن امریکی رویہ ایسا نہ تھا جو اعتماد سازی میں مددگار ثابت ہوتا۔ ان کے مطابق اب فیصلہ امریکہ کو کرنا ہے کہ آیا وہ ایران کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے گا یا نہیں۔

قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری اور اصولی مؤقف پر قائم ہے، اور ایرانی قوم کے حقوق کے تحفظ کیلئے سفارتکاری کے ساتھ ساتھ دیگر ذرائع کو بھی اہم سمجھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کیلئے مذاکرات ایک حکمت عملی کا حصہ ہیں، نہ کہ کمزوری۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران ایک 90 ملین آبادی کا ملک ہے اور سپریم لیڈر کی قیادت میں قوم نے حالیہ چیلنجز کا بھرپور مقابلہ کیا۔ قالیباف نے سڑکوں پر نکلنے والے عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 40 روزہ قومی دفاع کی کامیابیوں کو مزید مستحکم بنانے کیلئے کوششیں جاری رہیں گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق قالیباف کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران مذاکراتی عمل جاری رکھنے کا خواہاں ہے، تاہم وہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو اعتماد سازی اور اصولی برابری سے مشروط کر رہا ہے، جبکہ پاکستان کی میزبانی اس پورے عمل میں ایک اہم سفارتی پل کے طور پر سامنے آئی ہے۔

دیکھئیے:اسلام آباد مذاکرات: 16 گھنٹے طویل بات چیت کے باوجود امریکہ اور ایران میں معاہدہ نہ ہو سکا؛ جے ڈی وینس واپس روانہ

متعلقہ مضامین

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی وفد کو الوداع کیا

April 12, 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی پاکستان کے کردار اور میزبانی کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان نے مثبت اور متوازن کردار ادا کیا۔

April 12, 2026

پاکستان کی ساحلی اور بندرگاہی سکیورٹی ایک منظم نظام کے تحت کام کر رہی ہے، اور کسی ایک واقعے کو بنیاد بنا کر بین الاقوامی بحری سرگرمیوں کیلئے خطرے کا تاثر دینا حقائق کے منافی ہو سکتا ہے۔

April 12, 2026

مذاکرات ایک پیچیدہ ماحول میں ہوئے جہاں بداعتمادی پہلے سے موجود تھی، اس لیے ایک ہی نشست میں معاہدہ ہونا ممکن نہیں تھا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام جیسے معاملات انتہائی حساس ہیں اور ان پر فوری اتفاق ممکن نہیں۔

April 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *