گوادر کے قریب جیوانی کے علاقے میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی کشتی پر حملے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف نوعیت کے دعوے سامنے آئے ہیں، جن میں بعض حلقوں نے واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے پاکستان کی سمندری سکیورٹی سے متعلق خدشات ظاہر کیے ہیں، تاہم سرکاری ذرائع نے ان بیانیوں کو قبل از وقت اور غیر مصدقہ قرار دیا ہے۔
حکام کے مطابق واقعے میں تین اہلکار نائیک افضل، سپاہی جمیل اور سپاہی عمیر شہید ہوئے، جبکہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ ساحل سے کیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل نوعیت، طریقہ کار اور ذمہ دار عناصر کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
Banned Baloch Liberation Army (BLA) has said it carried out an attack on a naval patrol boat near Jiwani in Gwadar district.
— Kiyya Baloch (@KiyyaBaloch) April 12, 2026
In a statement to journalists, the armed group claimed “the incident marked an expansion of its operational reach into maritime areas,” describing it as… https://t.co/N6KScb8KAa
دوسری جانب بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے اس واقعے کو “کھلے سمندر میں پہلا بڑا حملہ” اور پاکستان کی بحری سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا گیا، جبکہ کراچی بندرگاہ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال سے جوڑنے کی کوشش بھی کی گئی۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق ایسے دعوے زمینی حقائق سے ہٹ کر مبالغہ آرائی پر مبنی ہو سکتے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہوئی۔
کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، تاہم حکام کے مطابق اس دعوے کی تصدیق ضروری ہے اور ایسے بیانات کو تحقیقات مکمل ہونے سے قبل حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ساحلی اور بندرگاہی سکیورٹی ایک منظم نظام کے تحت کام کر رہی ہے، اور کسی ایک واقعے کو بنیاد بنا کر بین الاقوامی بحری سرگرمیوں کیلئے خطرے کا تاثر دینا حقائق کے منافی ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے مواقع پر غیر مصدقہ اطلاعات اور مخصوص بیانیے نہ صرف صورتحال کو مسخ کرتے ہیں بلکہ سکیورٹی اداروں کی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ ریاستی ادارے اس واقعے کی شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لانے کیلئے متحرک ہیں۔
دیکھئیے:گوادر کے قریب پاکستان کوسٹ گارڈز کی کشتی پر حملہ: تین اہلکار شہید، زمینی فائرنگ کا انکشاف