سکیورٹی ذرائع کا رائٹرز سے بڑا دعویٰ؛ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پانے کے قریب، مذاکرات آخری مرحلے میں داخل۔

April 17, 2026

سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار خارجی دہشت گرد عامر سہیل نے افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور بھارتی ایجنسی ‘را’ کے درمیان گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا۔

April 17, 2026

لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیاں؛ جنوبی لبنان کے دیہات پر رات گئے گولہ باری سے کشیدگی برقرار۔

April 17, 2026

اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے عالمی غذائی بحران اور کھاد و توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

April 17, 2026

طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر بانی رہنماء اور سابق وزیرِ خزانہ معتصم آغا جان کو قندھار سے گرفتار کر لیا گیا۔

April 17, 2026

اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ دفاعی تعلقات، علاقائی سکیورٹی اور باہمی تعاون کے امور زیر بحث آئے۔

April 17, 2026

جلیانوالہ باغ سے غزہ تک: استعمار کا بدلتا چہرہ اور سفاکیت کا تاریخی تسلسل

تیرہ اپریل 1919 کا سانحہ جلیانوالہ باغ اور عصرِ حاضر میں فلسطین پر جاری اسرائیلی جارحیت محض دو الگ واقعات نہیں، بلکہ ایک ہی استعماری سوچ کا تسلسل ہیں۔ برطانوی راج کے ’رولٹ ایکٹ‘ سے لے کر صیہونی ریاست کی ’انتظامی حراست‘ تک، جابروں نے ہمیشہ قانون کو نہتے عوام کی آواز دبانے اور نسل کشی کو جواز فراہم کرنے کے لیے آلہ کار بنایا ہے
تیرہ اپریل 1919 کا سانحہ جلیانوالہ باغ اور عصرِ حاضر میں فلسطین پر جاری اسرائیلی جارحیت محض دو الگ واقعات نہیں، بلکہ ایک ہی استعماری سوچ کا تسلسل ہیں۔ برطانوی راج کے ’رولٹ ایکٹ‘ سے لے کر صیہونی ریاست کی ’انتظامی حراست‘ تک، جابروں نے ہمیشہ قانون کو نہتے عوام کی آواز دبانے اور نسل کشی کو جواز فراہم کرنے کے لیے آلہ کار بنایا ہے

سانحہ جلیانوالہ باغ کی برسی پر برطانوی سامراج اور موجودہ اسرائیلی نسل کشی کے درمیان گہرے ربط کا مفصل مطالعہ۔ جانیے کہ کس طرح رولٹ ایکٹ اور اسرائیلی انتظامی حراست کے سیاہ قوانین ایک ہی استعماری ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں اور عالمی ضمیر ان مظالم پر خاموش کیوں ہے

April 13, 2026

تاریخ کے اوراق جب بھی 13 اپریل کے صفحے پر پلٹتے ہیں، انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے اور 1919 کا وہ خونی منظر آنکھوں کے سامنے رقص کرنے لگتا ہے جب امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں برطانوی سامراج نے نہتے اور بے گناہ انسانوں کے لہو سے ہولی کھیلی تھی۔ یہ محض ایک گزرے ہوئے واقعے کی یاد نہیں بلکہ یہ اس ذہنیت کا نوحہ ہے جس نے ہمیشہ طاقت کے نشے میں انسانی وقار کو پامال کیا اور امن کی فاختاؤں کو بارود کے دھوئیں میں دفن کیا۔ اس المناک واقعے کی جڑیں اس بدنامِ زمانہ ’رولٹ ایکٹ‘ میں پیوست تھیں جسے برصغیر کے حریت پسندوں نے ’کالا قانون‘ کے نام سے پکارا، کیونکہ یہ قانون ایک ایسی جابرانہ دستاویز تھی جس نے انسانی حقوق کی ہر بنیاد کو منہدم کر دیا تھا۔ رولٹ ایکٹ کا سب سے ہولناک پہلو یہ تھا کہ اس نے ریاست کو یہ کھلی آزادی دے دی تھی کہ وہ کسی بھی شہری کو محض شک و شبہ کی بنیاد پر، بغیر کسی مقدمے، ٹرائل یا وکیل کے سالہا سال کے لیے پابندِ سلاسل کر دے۔ یہ قانون درحقیقت برطانوی راج کے اس خوف کا عکاس تھا جو اسے برصغیر میں ابھرتی ہوئی بیداری اور جذبۂ حریت سے محسوس ہو رہا تھا۔

موجودہ دور کے سفاکانہ تناظر میں اگر ہم اس استعماری جبر کا تقابلی جائزہ لیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اگرچہ نام بدل گئے ہیں اور کرداروں نے نئے لبادے اوڑھ لیے ہیں، لیکن ظلم کی نفسیات آج بھی وہی قدیم ہے۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف استعمال ہونے والا ’انتظامی حراست‘ جسے کا قانون جسے دہشت گردوں کے لیے سزائے موت کا قانون کا نام دیا گیا ہے درحقیقت اسی رولٹ ایکٹ کا جدید عکس اور نمونہ ہے۔ جس طرح برطانوی راج نے ”نہ وکیل، نہ دلیل، نہ اپیل“ کے اصول پر ہندوستانیوں کے احتجاج کو کچلنے کی کوشش کی تھی، بالکل اسی طرح آج کی صیہونی ریاست ہزاروں فلسطینیوں کو ’خفیہ شواہد‘ کی آڑ میں زندانوں کی نذر کر دیتی ہے، جہاں قیدی کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا جرم کیا ہے اور اسے کب تک اس قید و بند کی صعوبتوں سے گزارا جائے گا۔ یہ دونوں قوانین اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ استعمار چاہے ماضی کا ہو یا حال کا، وہ ہمیشہ انصاف کے دروازے بند کر کے ہی اپنی حاکمیت کو برقرار رکھنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ اسرائیل کا یہ نظامِ جبر ثابت کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کو اپنے بوٹوں تلے روندنے میں کسی بھی اخلاقی حد کا قائل نہیں۔

ان دونوں جابر قوتوں کے درمیان ایک گہرا ربط ان کی وہ نسلی برتری کی سوچ ہے جو مقبوضہ عوام کو انسان کے بجائے محض ایک عدد یا ایک ہدف تصور کرتی ہے۔ جنرل ڈائر نے جب جلیانوالہ باغ کے واحد تنگ راستے کو گھیر کر مشین گنوں کے دہانے کھولے تھے، تو اس کا مقصد صرف مجمع کو منتشر کرنا نہیں تھا بلکہ اس کا اپنا اعتراف یہ تھا کہ وہ ہندوستانیوں کے دلوں میں برطانوی اقتدار کی ایسی دہشت بٹھانا چاہتا تھا جو نسلوں تک ختم نہ ہو۔ یہی وہ وحشیانہ طرزِ عمل ہے جو آج غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آزمایا جا رہا ہے۔ اسرائیل کے حالیہ مظالم اور جنگی جرائم کی فہرست اتنی طویل ہے کہ انسانی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ہسپتالوں پر بمباری، پناہ گزین کیمپوں کا قتلِ عام، اور بچوں کو بھوک و پیاس سے تڑپا کر مارنا، یہ سب اس جدید استعمار کے وہ سیاہ کارنامے ہیں جو جنرل ڈائر کی روح کو بھی شرما دیتے ہیں۔ جس طرح جلیانوالہ باغ میں بوڑھے، بچے اور خواتین گولیوں کا نشانہ بنے، ویسے ہی آج غزہ کی گلیوں میں ہر لمحہ ایک نیا جلیانوالہ باغ برپا کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی ریاست کی سفاکیت صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک منظم نسل کشی ہے جو پوری ایک قوم کو اس کے جغرافیے اور تاریخ سے مٹانے کے درپے ہے۔ برطانوی سامراج کی طرح، صیہونی ریاست بھی دنیا کے سامنے خود کو مہذب اور جمہوری ریاست ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتی ہے، جبکہ اس کے ہاتھ معصوم فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ فلسطینی قیدیوں کے خلاف بنائے گئے حالیہ قوانین، جن میں سزائے موت کی تجاویز اور بنیادی طبی سہولیات سے محرومی شامل ہے، اس نوآبادیاتی تسلسل کی کڑی ہیں جہاں قیدی کے پاس اپنا دفاع کرنے کا کوئی قانونی راستہ نہیں بچتا۔ عالمی ضمیر کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ وہ جلیانوالہ باغ کے تاریخی جبر پر تو مذمتی کلمات کہتا ہے لیکن جب یہی تاریخ فلسطین میں اپنے آپ کو دہرا رہی ہوتی ہے، تو بڑی طاقتیں خاموشی کی چادر اوڑھ کر اس ظلم کی سہولت کار بن جاتی ہیں۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جبر کی ہر شکل چاہے وہ ایک صدی پرانی ہو یا عصرِ حاضر کا المیہ، وہ انسانیت کے مجموعی وجود پر ایک گہرا زخم ہے۔

جب تک دنیا میں رولٹ ایکٹ جیسے سیاہ قوانین اور جلیانوالہ باغ جیسے خونی معرکے کسی نہ کسی صورت میں موجود رہیں گے، تب تک عالمی امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اسرائیل کا جبر اور فلسطینیوں کی بے بسی آج کے دور کا وہ امتحان ہے جس میں عالمی قیادت بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔ تاریخ کا سبق بڑا واضح ہے کہ جبر کی بنیاد پر کھڑی دیواریں بالآخر مسمار ہو کر رہتی ہیں، کیونکہ لہو چاہے امرتسر کی مٹی کا ہو یا غزہ کی گلیوں کا، وہ پکار پکار کر اس سچائی کا اعلان کرتا ہے کہ استعمار کی ہر شب کو سحر ہونا ہے اور حق کی فتح یقینی ہے۔ 13 اپریل کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی کی قیمت ہمیشہ خون سے ادا کرنی پڑتی ہے، اور وہ قومیں جو اپنے حق کے لیے ڈٹ جاتی ہیں، وہ بڑی سے بڑی جابر قوت کو بھی جھکنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ آج فلسطینی عوام کی مزاحمت اسی جذبۂ حریت کا تسلسل ہے جو کبھی جلیانوالہ باغ کے شہداء نے اپنے لہو سے سینچا تھا۔ یہ اداریہ ان تمام مظلوموں کے نام ہے جو تاریخ کے مختلف ادوار میں استعماری جبر کا شکار ہوئے مگر ہار نہ مانی۔

متعلقہ مضامین

سکیورٹی ذرائع کا رائٹرز سے بڑا دعویٰ؛ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پانے کے قریب، مذاکرات آخری مرحلے میں داخل۔

April 17, 2026

سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار خارجی دہشت گرد عامر سہیل نے افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور بھارتی ایجنسی ‘را’ کے درمیان گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا۔

April 17, 2026

لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیاں؛ جنوبی لبنان کے دیہات پر رات گئے گولہ باری سے کشیدگی برقرار۔

April 17, 2026

اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے عالمی غذائی بحران اور کھاد و توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

April 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *