ضلع کرم کے علاقے تھادو اوبو میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیادوں پر بروقت کاروائی کرتے ہوئے 6 دہشت گردوں کو ہلاک اور حملے کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

June 1, 2026

تجزیہ کار امیر جہانگیر کے مطابق بھارت افغان روابط اور عسکریت پسندی بلوچستان کے معدنی وسائل تک امریکی رسائی اور پاکستان کی جیو اکنامک ترقی میں رکاوٹ ہیں۔

June 1, 2026

اسلام آباد میں آٹھویں پاک یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد؛ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ صدارت کی اور دوطرفہ شراکت داری بڑھانے پر اتفاق کیا۔

June 1, 2026

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت؛ عدالتی کارروائی کے التوا پر قانونی و عوامی بحث اور پراسیکیوشن کا تاخیر کے الزامات سے انکار۔

June 1, 2026

معروف سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر ابراہیم الماشی کا انکشاف؛ کالعدم بی ایل اے کی جانب سے مسلح حملوں میں خواتین کا استعمال تنظیم کی شدید مایوسی اور آپریشنل کمزوری کی علامت ہے۔

June 1, 2026

سفارتی ذرائع نے کابل میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان متوقع مذاکرات کی خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔

June 1, 2026

پاکستان کے معدنی وسائل پر امریکی نظریں، علاقائی عسکریت پسندی خطرہ قرار، امیر جہانگیر

تجزیہ کار امیر جہانگیر کے مطابق بھارت افغان روابط اور عسکریت پسندی بلوچستان کے معدنی وسائل تک امریکی رسائی اور پاکستان کی جیو اکنامک ترقی میں رکاوٹ ہیں۔
تجزیہ کار امیر جہانگیر کے مطابق بھارت افغان روابط اور عسکریت پسندی بلوچستان کے معدنی وسائل تک امریکی رسائی اور پاکستان کی جیو اکنامک ترقی میں رکاوٹ ہیں۔

دی منرل گیمبٹ میں بلوچستان کی معدنی دولت امریکہ اور چین کی مسابقت کا مرکز بن گئی۔ علاقائی عدم استحکام نے واشنگٹن کو تزویراتی تضاد سے دوچار کر دیا ہے۔

June 1, 2026

عالمی نظام میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے درمیان اہم معدنیات پر کنٹرول ٹیکنالوجی کی قیادت، صنعتی مسابقت، قومی سلامتی اور جغرافیائی و سیاسی اثر و رسوخ کا نیا معیار بن کر ابھرا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق، صاف توانائی میں استعمال ہونے والی اہم معدنیات جیسے کہ کاپر، لیتھیم، کوبالٹ، نکل، گریفائٹ اور نایاب عناصر کی طلب میں 2030 تک تین گنا سے زائد اضافے کا امکان ہے، جبکہ آئندہ دہائی میں صرف تانبے کی طلب 40 فیصد تک بڑھ جائے گی۔ اس وقت چین اہم معدنیات کی پیداوار، ریفائننگ اور پراسیسنگ کے بڑے حصے پر غالب ہے، جس نے امریکہ اور مغربی دارالحکومتوں میں سپلائی چین سے متعلق شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

پاکستان کی وسیع معدنی صلاحیت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اہم معدنیات تک متنوع رسائی کو قومی سلامتی کی اولین ترجیح بنا دیا گیا ہے۔ واشنگٹن جب چینی کنٹرول والے سپلائی نظام کا متبادل تلاش کر رہا ہے، تو پاکستان ایک اسٹریٹجک اور غیر معمولی موقع کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پاکستان کے پاس 6 کھرب ڈالر سے زائد مالیت کی مجموعی معدنی صلاحیت موجود ہے، جس میں دنیا کے دوسرے بڑے کوئلے کے ذخائر (185 ارب ٹن) اور ساتویں بڑے تانبے کے ذخائر شامل ہیں۔

بلوچستان کا ریکوڈک منصوبہ اس صورتحال کا مرکزی نقطہ ہے، جو ابتدائی مرحلے میں سالانہ 2 لاکھ ٹن کاپر اور 2.5 لاکھ اونس سونا پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے 37 سالہ مدت میں 74 ارب ڈالر کی آمدن متوقع ہے۔ کم لیبر لاگت، موزوں سرمایہ کاری ڈھانچے اور گوادر کے ذریعے بحیرہ عرب تک رسائی کی بدولت پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی منڈیوں کے لیے واضح برتری حاصل ہے۔

علاقائی روابط اور سکیورٹی چیلنجز

تاہم روزنامہ دی نیوز میں شائع ہونے والے اپنے مضمون دی منرل گیمبٹ میں ممتاز تجزیہ کار امیر جہانگیر نے ایک اہم تزویراتی پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارت اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط بلوچستان میں عدم استحکام کو ہوا دے رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف پاکستان کی جیو اکنامک ترقی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ محفوظ علاقائی رابطوں اور اہم معدنی وسائل تک رسائی کے امریکی عزائم کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے ذریعے مستحکم تجارتی رسائی یوریشیائی انضمام، توانائی کے ذرائع میں تنوع اور علاقائی توازن سے متعلق امریکہ کے طویل المدتی تزویراتی مقاصد سے ہم آہنگ ہے، لیکن دہشت گردی، عسکریت پسندی اور ٹی ٹی پی جیسے عناصر کی سرحد پار سرگرمیاں ان مقاصد کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال اب صرف پاکستان تک محدود نہیں رہی بلکہ وسطی ایشیا تک پھیل رہی ہے، جہاں ٹرانزٹ روٹس اور تجارتی منصوبے خطرات سے دوچار ہیں۔

واشنگٹن اور تزویراتی تضاد

تجزیہ کار امیر جہانگیر کے مطابق اس صورتحال نے واشنگٹن کے لیے ایک گہرا تزویراتی تضاد پیدا کر دیا ہے۔ ایک طرف امریکہ چین پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے متبادل معدنی ذرائع حاصل کرنا چاہتا ہے، اور دوسری طرف پاکستان کے معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں میں جاری بدامنی، علاقائی پراکسیوں اور بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث ان وسائل تک رسائی مشکل ہو رہی ہے۔ اگر بھارت اور طالبان کے مفادات کا ممکنہ اشتراک یا عدم استحکام پیدا کرنے والے دیگر عوامل پاکستان کے معدنی شعبے میں امریکی شمولیت کو متاثر کرتے ہیں، تو یہ بالآخر خود امریکہ کے وسیع تر تزویراتی اہداف کو نقصان پہنچائے گا۔

امریکہ کے لیے اہمیت

مضمون میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ چین پاکستان کے معدنی وسائل میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن وہ ان پر ساختی طور پر مکمل انحصار نہیں کرتا کیونکہ اس کے پاس اپنے وسیع ذخائر اور پراسیسنگ کی برتری موجود ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کے وسائل کی تزویراتی اہمیت امریکہ کے لیے نسبتاً کہیں زیادہ ہے۔ اب بڑا سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ علاقائی رقابتوں، انتہاپسند عناصر کی محفوظ پناہ گاہوں اور بھارت و طالبان کے درمیان ابھرتے ہوئے مفادات کے اشتراک کو پاکستان کے اہم معدنی وسائل تک اپنی طویل المدتی رسائی میں رکاوٹ بننے دے گا؟

متعلقہ مضامین

ضلع کرم کے علاقے تھادو اوبو میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیادوں پر بروقت کاروائی کرتے ہوئے 6 دہشت گردوں کو ہلاک اور حملے کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

June 1, 2026

اسلام آباد میں آٹھویں پاک یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد؛ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ صدارت کی اور دوطرفہ شراکت داری بڑھانے پر اتفاق کیا۔

June 1, 2026

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت؛ عدالتی کارروائی کے التوا پر قانونی و عوامی بحث اور پراسیکیوشن کا تاخیر کے الزامات سے انکار۔

June 1, 2026

معروف سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر ابراہیم الماشی کا انکشاف؛ کالعدم بی ایل اے کی جانب سے مسلح حملوں میں خواتین کا استعمال تنظیم کی شدید مایوسی اور آپریشنل کمزوری کی علامت ہے۔

June 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *