عالمی نظام میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے درمیان اہم معدنیات پر کنٹرول ٹیکنالوجی کی قیادت، صنعتی مسابقت، قومی سلامتی اور جغرافیائی و سیاسی اثر و رسوخ کا نیا معیار بن کر ابھرا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق، صاف توانائی میں استعمال ہونے والی اہم معدنیات جیسے کہ کاپر، لیتھیم، کوبالٹ، نکل، گریفائٹ اور نایاب عناصر کی طلب میں 2030 تک تین گنا سے زائد اضافے کا امکان ہے، جبکہ آئندہ دہائی میں صرف تانبے کی طلب 40 فیصد تک بڑھ جائے گی۔ اس وقت چین اہم معدنیات کی پیداوار، ریفائننگ اور پراسیسنگ کے بڑے حصے پر غالب ہے، جس نے امریکہ اور مغربی دارالحکومتوں میں سپلائی چین سے متعلق شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
پاکستان کی وسیع معدنی صلاحیت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اہم معدنیات تک متنوع رسائی کو قومی سلامتی کی اولین ترجیح بنا دیا گیا ہے۔ واشنگٹن جب چینی کنٹرول والے سپلائی نظام کا متبادل تلاش کر رہا ہے، تو پاکستان ایک اسٹریٹجک اور غیر معمولی موقع کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پاکستان کے پاس 6 کھرب ڈالر سے زائد مالیت کی مجموعی معدنی صلاحیت موجود ہے، جس میں دنیا کے دوسرے بڑے کوئلے کے ذخائر (185 ارب ٹن) اور ساتویں بڑے تانبے کے ذخائر شامل ہیں۔
بلوچستان کا ریکوڈک منصوبہ اس صورتحال کا مرکزی نقطہ ہے، جو ابتدائی مرحلے میں سالانہ 2 لاکھ ٹن کاپر اور 2.5 لاکھ اونس سونا پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے 37 سالہ مدت میں 74 ارب ڈالر کی آمدن متوقع ہے۔ کم لیبر لاگت، موزوں سرمایہ کاری ڈھانچے اور گوادر کے ذریعے بحیرہ عرب تک رسائی کی بدولت پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی منڈیوں کے لیے واضح برتری حاصل ہے۔
علاقائی روابط اور سکیورٹی چیلنجز
تاہم روزنامہ دی نیوز میں شائع ہونے والے اپنے مضمون دی منرل گیمبٹ میں ممتاز تجزیہ کار امیر جہانگیر نے ایک اہم تزویراتی پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارت اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط بلوچستان میں عدم استحکام کو ہوا دے رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف پاکستان کی جیو اکنامک ترقی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ محفوظ علاقائی رابطوں اور اہم معدنی وسائل تک رسائی کے امریکی عزائم کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے ذریعے مستحکم تجارتی رسائی یوریشیائی انضمام، توانائی کے ذرائع میں تنوع اور علاقائی توازن سے متعلق امریکہ کے طویل المدتی تزویراتی مقاصد سے ہم آہنگ ہے، لیکن دہشت گردی، عسکریت پسندی اور ٹی ٹی پی جیسے عناصر کی سرحد پار سرگرمیاں ان مقاصد کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال اب صرف پاکستان تک محدود نہیں رہی بلکہ وسطی ایشیا تک پھیل رہی ہے، جہاں ٹرانزٹ روٹس اور تجارتی منصوبے خطرات سے دوچار ہیں۔
واشنگٹن اور تزویراتی تضاد
تجزیہ کار امیر جہانگیر کے مطابق اس صورتحال نے واشنگٹن کے لیے ایک گہرا تزویراتی تضاد پیدا کر دیا ہے۔ ایک طرف امریکہ چین پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے متبادل معدنی ذرائع حاصل کرنا چاہتا ہے، اور دوسری طرف پاکستان کے معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں میں جاری بدامنی، علاقائی پراکسیوں اور بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث ان وسائل تک رسائی مشکل ہو رہی ہے۔ اگر بھارت اور طالبان کے مفادات کا ممکنہ اشتراک یا عدم استحکام پیدا کرنے والے دیگر عوامل پاکستان کے معدنی شعبے میں امریکی شمولیت کو متاثر کرتے ہیں، تو یہ بالآخر خود امریکہ کے وسیع تر تزویراتی اہداف کو نقصان پہنچائے گا۔
امریکہ کے لیے اہمیت
مضمون میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ چین پاکستان کے معدنی وسائل میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن وہ ان پر ساختی طور پر مکمل انحصار نہیں کرتا کیونکہ اس کے پاس اپنے وسیع ذخائر اور پراسیسنگ کی برتری موجود ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کے وسائل کی تزویراتی اہمیت امریکہ کے لیے نسبتاً کہیں زیادہ ہے۔ اب بڑا سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ علاقائی رقابتوں، انتہاپسند عناصر کی محفوظ پناہ گاہوں اور بھارت و طالبان کے درمیان ابھرتے ہوئے مفادات کے اشتراک کو پاکستان کے اہم معدنی وسائل تک اپنی طویل المدتی رسائی میں رکاوٹ بننے دے گا؟