تاریخی اعتبار سے عالمی سفارت کاری کے میدان میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جہاں کامیابی کا تعین حتمی معاہدوں سے نہیں بلکہ مکالمے کی شروعات اور تعطل و کشیدگی کے خاتمے سے کیا جاتا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ امریکہ ایران مذاکرات بلاشبہ ایک ایسا ہی سنگ میل ہیں، جس نے نہ صرف ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط سفارتی جمود کو توڑا بلکہ پاکستان کی بطور سہولت کار سٹریٹجک ساکھ اور غیر جانبداری کو بھی عالمی سطح پر منوا لیا ہے۔ پاکستان نے ان مذاکرات کی میزبانی ایسے وقت میں کی جب خطہ انتہائی پیچیدہ اور کٹھن حالات سے گزر رہا تھا، اور معمولی سی تزویراتی غلط فہمی کسی بڑے علاقائی تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی تھی۔ اسلام آباد کی اس سنجیدہ سفارتی کوشش نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت اور سفارتی رسائی کے باعث مخالف فریقین کو ایک میز پر لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
اگرچہ ایٹمی پروگرام کی پیچیدہ فائل اور آبنائے ہرمز کے نازک انتظامات پر فی الوقت کوئی حتمی تصفیہ سامنے نہیں آ سکا، تاہم ان مذاکرات کے ثمرات کو محض ایک نشست کے نتائج تک محدود کرنا ناانصافی ہوگی۔ اسلام آباد مذاکرات کی سب سے بڑی کامیابی فریقین کے درمیان براہِ راست اور اعلیٰ ترین سطح کا رابطہ ممکن بنانا ہے، جس نے نہ صرف ایک نازک جنگ بندی کو سہارا دیا بلکہ ان حقیقی اور بنیادی نکات کو بھی بے نقاب کر دیا ہے جہاں اصل تعطل موجود ہے۔ پاکستان نے ایک مؤثر کڑی کے طور پر اپنا فرض بخوبی نبھایا اور وہ سفارتی گنجائش پیدا کی جس کی عالمی امن کو اشد ضرورت تھی۔ اب اس عمل سے پیدا ہونے والے نتائج یا ممکنہ ناکامیوں کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست ان اصل فریقین پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے اپنے مخصوص قومی مفادات اور ایٹمی معاملے پر تاحال لچک کا مظاہرہ نہیں کیا۔
پاکستان کا تزویراتی مؤقف ہمیشہ سے ہی تین بنیادی ستونوں یعنی جنگ بندی کے تسلسل، محفوظ سمندری تجارت اور مسلسل مذاکرات پر استوار رہا ہے۔ پاکستان نے اپنی پالیسی کو اس حقیقت سے ہم آہنگ رکھا ہے کہ وہ اس تنازع کا مالک نہیں بلکہ محض ایک منصف مزاج سہولت کار ہے۔ اسٹریٹجک صبر کی اس پالیسی کا مقصد مستقبل کے رابطوں کی گنجائش کو برقرار رکھنا اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنا ہے، کیونکہ دیرینہ اور گہرے تزویراتی اختلافات کو راتوں رات ختم نہیں کیا جا سکتا۔ سفارت کاری ایک تدریجی عمل ہے، اور پاکستان نے طریقہ کار کی سطح پر جو کامیابی حاصل کی ہے، اسے نتائج پر پائے جانے والے اختلاف سے الگ دیکھنا ضروری ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ کسی بھی گروہی مفاد یا عسکری اتحاد کا حصہ بنے بغیر عالمی معاشی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہے۔
آبنائے ہرمز کی حالیہ عسکری صورتحال اور ناکہ بندی کے اعلانات بلاشبہ عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔ اس حساس موڑ پر میڈیا اور ماہرین کو چاہیے کہ وہ انتہا پسندانہ بیانیے سے گریز کریں اور اعتدال پسندی کو فروغ دیں۔ آبنائے ہرمز کی عسکری کاری نہ صرف علاقائی توازن کو بگاڑ دے گی بلکہ عالمی تجارتی شاہراہوں کو بھی مفلوج کر دے گی۔ پاکستان کا مفاد کشیدگی میں کمی اور بلا تعطل عالمی تجارت میں پنہاں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد نے کسی بھی فریق کے دعوؤں کی توثیق کرنے کے بجائے ہمیشہ “رابطے” پر زور دیا ہے۔ جنگ بندی کا تحفظ ہی وہ بنیاد ہے جس پر مستقبل کی سفارتی عمارت قائم کی جا سکتی ہے، اور پاکستان کی بروقت مداخلت نے خطے کو ایک بڑے حادثے سے بچا کر اس بنیاد کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے پاکستان کا کردار اب بھی کلیدی رہے گا۔ سفارتی راستوں کو برقرار رکھنا اور اگلے مرحلے کے لیے سازگار حالات کی حمایت کرنا پاکستان کی سٹریٹجک ترجیح ہے۔ یہ اسلام آباد مذاکرات ہی تھے جنہوں نے نیوکلیئر مسئلے کی مرکزیت کو واضح کر کے مستقبل کے مذاکرات کو زیادہ حقیقت پسندانہ اور مرکوز بنانے میں مدد دی ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست اور اہم جغرافیائی قوت کے طور پر اپنا سفارتی راستہ کھلا رکھے گا اور جب بھی حالات موافق ہوں گے، دوبارہ سہولت کاری فراہم کرنے کے لیے پرعزم رہے گا۔ عالمی برادری کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان نے سفارتی گنجائش پیدا کر کے اپنا حصہ ڈال دیا ہے، اب گیند ان عالمی طاقتوں کے لبادے میں ہے جنہیں جنگ کے بجائے امن اور تصادم کے بجائے تعاون کا راستہ چننا ہوگا۔