مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

ایمان مزاری کیس: سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت؛ یکساں قانون کا مطالبہ

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت؛ عدالتی کارروائی کے التوا پر قانونی و عوامی بحث اور پراسیکیوشن کا تاخیر کے الزامات سے انکار۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت؛ عدالتی کارروائی کے التوا پر قانونی و عوامی بحث اور پراسیکیوشن کا تاخیر کے الزامات سے انکار۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کے بعد سوشل میڈیا اور قانونی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی۔ پراسیکیوشن نے کارروائی میں جان بوجھ کر تاخیر کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

June 1, 2026

اسلام آباد: عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے بعد جج اعظم خان کی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے ضابطہ فوجداری کے سیکشن 426 کے تحت دائر کردہ سزا معطلی کی درخواستوں پر اہم سماعت ہوئی ہے۔ اس کیس کی عدالتی کاروائی اور بعض طریقہ کار کے التوا نے سوشل میڈیا اور قانونی حلقوں میں وسیع پیمانے پر بحث اور ردِعمل کو جنم دیا ہے، جہاں مختلف فریقین کی جانب سے الزامات کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

کاروائی میں تاخیر

عدالتی کاروائی میں مبینہ لیت و لعل یا تاخیر کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات پر باضابطہ قانونی بحث کے دوران سرکاری ذرائع نے کسی بھی قسم کی دانستہ تاخیر یا قانون سے گریز کی کوششوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ قانون دانوں اور باوثوق ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پراسیکیوشن کے وکیل اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے سامنے ایک اور اہم کیس کی سماعت میں مصروف تھے، اور اس حوالے سے متعلقہ عدالت کو باقاعدہ طور پر مطلع کر دیا گیا تھا، لہٰذا تاخیر کا تاثر درست نہیں ہے۔

قانون کی نظر میں برابری

اس جاری قانونی تنازع نے پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25 پر بحث کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے، جو تمام شہریوں کی قانون کی نظر میں برابری اور یکساں حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ قانونی مبصرین اور ماہرین کا ماننا ہے کہ تمام عدالتی طریقہ کار اور قوانین کا نفاذ یکساں بنیادوں پر ہونا چاہیے، اور اس عمل کو کسی بھی قسم کے سیاسی اثر و رسوخ یا میڈیا کے دباؤ سے بالکل پاک ہونا چاہیے۔

عدالتی دائرہ اختیار

واضح رہے کہ ضابطہ فوجداری کا آرٹیکل 426 اپیل دائر کیے جانے کے بعد سزا پر عملدرآمد کو معطل کرنے کا قانونی راستہ فراہم کرتا ہے، تاہم یہ فیصلہ مکمل طور پر عدالت کے صوابدیدی اختیارات پر منحصر ہوتا ہے۔ عدالت کسی بھی فیصلے یا رہائی کا حکم جاری کرنے سے قبل کیس کے تمام پہلوؤں، زمینی حقائق اور فریقین کی جانب سے پیش کیے جانے والے قانونی دلائل کا تفصیلی جائزہ لیتی ہے۔

سوشل میڈیا مہم

اس کیس کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور میڈیا چینلز پر حامیوں اور مخالفین کے درمیان شدید بحث اور بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس صورتحال پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتیں اپنی کارروائی اور فیصلے صرف اور صرف ٹھوس شواہد، گواہوں اور آفیشل ریکارڈ کی بنیاد پر کرتی ہیں، نہ کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی کسی مہم یا ٹرینڈنگ ہیش ٹیگز کے دباؤ میں آ کر۔

متعلقہ مضامین

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

November 4, 2026

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا ردعمل سامنے آگیا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *