"> ایران سے معاہدے کیلئے مذاکرات جاری: پاکستان کی ثالثی کے بعد سفارتی عمل برقرار ہے، امریکی عہدیدار کی تصدیق - HTN Urdu ایران سے معاہدے کیلئے مذاکرات جاری: پاکستان کی ثالثی کے بعد سفارتی عمل برقرار ہے، امریکی عہدیدار کی تصدیق
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ایران سے معاہدے کیلئے مذاکرات جاری: پاکستان کی ثالثی کے بعد سفارتی عمل برقرار ہے، امریکی عہدیدار کی تصدیق

تجزیہ کاروں کے مطابق جاری سفارتی عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اختلافات کے باوجود دونوں فریق مکمل تعطل کے بجائے کسی ممکنہ حل کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں، جہاں پاکستان کا کردار ایک مؤثر ثالث کے طور پر نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔
ایران امریکا مذاکرات جاری

امریکی میڈیا کے مطابق عہدیدار نے تصدیق کی کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے کوششیں جاری ہیں، تاہم آئندہ مرحلے میں دونوں وفود کی ملاقات کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر واضح ہے۔

April 13, 2026

واشنگٹن: امریکی عہدیدار نے تصدیق کی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے بھی برقرار ہیں۔ یہ بیان پاکستان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق عہدیدار نے تصدیق کی کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے کوششیں جاری ہیں، تاہم آئندہ مرحلے میں دونوں وفود کی ملاقات کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر واضح ہے۔

یاد رہے کہ ہفتے کے روز پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان اہم مذاکرات ہوئے، جو تقریباً 24 گھنٹے جاری رہے۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، جبکہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی وفد کا حصہ تھے۔ ایرانی وفد کی سربراہی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی، جن کے ہمراہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر حکام شریک تھے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ دونوں فریقین کے درمیان متعدد ادوار میں سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی کے عزم کو برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے، جبکہ پاکستان مستقبل میں بھی ایران اور امریکہ کے درمیان مکالمے اور سفارتی روابط کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جاری سفارتی عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اختلافات کے باوجود دونوں فریق مکمل تعطل کے بجائے کسی ممکنہ حل کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں، جہاں پاکستان کا کردار ایک مؤثر ثالث کے طور پر نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔

دیکھئیے:اسلام آباد مذاکرات کے بعد: امریکہ اور ایران کہاں کھڑے ہیں؟

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *