کابل: افغانستان کے صوبہ ہرات میں ایک مہلک حملے کے بعد عوامی غم و غصہ کھل کر سامنے آ گیا ہے، جہاں کم از کم 11 شہری ہلاک ہونے کے بعد سکیورٹی کی صورتحال پر طالبان حکومت کی کارکردگی پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق انجیل ضلع کے قریب ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کا تعلق زیادہ تر شیعہ برادری سے تھا۔ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جنازوں میں شریک ہوئے، جہاں طالبان کی جانب سے عوامی احتجاج پر عائد پابندیوں کے باوجود ہجوم جمع ہوا۔
عینی شاہدین کے مطابق جنازوں کے دوران جذباتی ماحول دیکھنے میں آیا اور بعض افراد نے دہشت گردی کے خلاف نعرے بھی لگائے، جو سخت کنٹرول والے ماحول میں عوامی ردعمل کی ایک غیر معمولی مثال قرار دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب طالبان حکام نے احتجاجی بیانیے کو محدود کرنے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق مقامی گورنر نے “دہشت گردی مردہ باد” جیسے نعروں کی مخالفت کی، جس پر عوام اور حکام کے درمیان تناؤ مزید بڑھ گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سکیورٹی خدشات کے بجائے بیانیے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس واقعے نے اقلیتی برادریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات کو بھی اجاگر کیا ہے۔ مذہبی مقام کے قریب شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد مقامی افراد کا کہنا ہے کہ زمینی سطح پر سکیورٹی انتظامات کمزور اور غیر مؤثر ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم عوامی سطح پر طالبان کی سکیورٹی فراہم کرنے کی صلاحیت پر اعتماد میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ احتجاج اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خوف میں کمی جبکہ عدم اطمینان میں اضافہ ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ افغانستان کے مختلف حصوں میں شہریوں کے خلاف حملوں کے واقعات نے روزمرہ زندگی میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رکھی ہے، جس کے باعث سکیورٹی صورتحال میں بہتری سے متعلق سوالات مزید شدت اختیار کر رہے ہیں۔
دیکھئیے:بغلان میں طالبان پر حملہ: افغانستان فریڈم فرنٹ کا کارروائی میں 4 طالبان ہلاک، 2 زخمی کرنے کا دعوی