حکام کے مطابق اجلاس میں ہونے والی مشاورت کو آئندہ وزرائے خارجہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جو 17 اپریل کو ترکیے کے شہر انطالیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر منعقد ہوگا۔

April 14, 2026

حکام کے مطابق یہ منشیات ایک ٹرانزٹ گاڑی کے ذریعے افغانستان سے قزاقستان منتقل کی جا رہی تھیں۔ گمرک پر اسکیننگ اور تفصیلی تلاشی کے دوران دیگوں کے اندر بنائے گئے خفیہ خانوں سے چرس برآمد کی گئی۔

April 14, 2026

ٹرمپ نے گفتگو کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے “بہترین کام” کر رہے ہیں۔ ایران پہلے ہی پاکستان کو مذاکرات کے لئے فیورٹ قرار دے چکا ہے۔

April 14, 2026

انجیل ضلع کے قریب ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کا تعلق زیادہ تر شیعہ برادری سے تھا۔ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جنازوں میں شریک ہوئے، جہاں طالبان کی جانب سے عوامی احتجاج پر عائد پابندیوں کے باوجود ہجوم جمع ہوا۔

April 14, 2026

ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم دوسری جانب کی پوزیشن واضح نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بات چیت کا اگلا مرحلہ ہوتا ہے تو پاکستان اس کے لیے ترجیحی مقام ہوگا۔

April 14, 2026

ہرات حملہ: عوام غم و غصے میں سڑکوں پر نکل آئی، طالبان کی سکیورٹی ناکامیوں پر شدید سوالات

انجیل ضلع کے قریب ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کا تعلق زیادہ تر شیعہ برادری سے تھا۔ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جنازوں میں شریک ہوئے، جہاں طالبان کی جانب سے عوامی احتجاج پر عائد پابندیوں کے باوجود ہجوم جمع ہوا۔
ہرات حملہ

جنازوں کے دوران جذباتی ماحول دیکھنے میں آیا اور بعض افراد نے دہشت گردی کے خلاف نعرے بھی لگائے، جو سخت کنٹرول والے ماحول میں عوامی ردعمل کی ایک غیر معمولی مثال قرار دی جا رہی ہے۔

April 14, 2026

کابل: افغانستان کے صوبہ ہرات میں ایک مہلک حملے کے بعد عوامی غم و غصہ کھل کر سامنے آ گیا ہے، جہاں کم از کم 11 شہری ہلاک ہونے کے بعد سکیورٹی کی صورتحال پر طالبان حکومت کی کارکردگی پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق انجیل ضلع کے قریب ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کا تعلق زیادہ تر شیعہ برادری سے تھا۔ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جنازوں میں شریک ہوئے، جہاں طالبان کی جانب سے عوامی احتجاج پر عائد پابندیوں کے باوجود ہجوم جمع ہوا۔

عینی شاہدین کے مطابق جنازوں کے دوران جذباتی ماحول دیکھنے میں آیا اور بعض افراد نے دہشت گردی کے خلاف نعرے بھی لگائے، جو سخت کنٹرول والے ماحول میں عوامی ردعمل کی ایک غیر معمولی مثال قرار دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب طالبان حکام نے احتجاجی بیانیے کو محدود کرنے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق مقامی گورنر نے “دہشت گردی مردہ باد” جیسے نعروں کی مخالفت کی، جس پر عوام اور حکام کے درمیان تناؤ مزید بڑھ گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سکیورٹی خدشات کے بجائے بیانیے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس واقعے نے اقلیتی برادریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات کو بھی اجاگر کیا ہے۔ مذہبی مقام کے قریب شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد مقامی افراد کا کہنا ہے کہ زمینی سطح پر سکیورٹی انتظامات کمزور اور غیر مؤثر ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم عوامی سطح پر طالبان کی سکیورٹی فراہم کرنے کی صلاحیت پر اعتماد میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ احتجاج اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خوف میں کمی جبکہ عدم اطمینان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان کے مختلف حصوں میں شہریوں کے خلاف حملوں کے واقعات نے روزمرہ زندگی میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رکھی ہے، جس کے باعث سکیورٹی صورتحال میں بہتری سے متعلق سوالات مزید شدت اختیار کر رہے ہیں۔

دیکھئیے:بغلان میں طالبان پر حملہ: افغانستان فریڈم فرنٹ کا کارروائی میں 4 طالبان ہلاک، 2 زخمی کرنے کا دعوی

متعلقہ مضامین

حکام کے مطابق اجلاس میں ہونے والی مشاورت کو آئندہ وزرائے خارجہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جو 17 اپریل کو ترکیے کے شہر انطالیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر منعقد ہوگا۔

April 14, 2026

حکام کے مطابق یہ منشیات ایک ٹرانزٹ گاڑی کے ذریعے افغانستان سے قزاقستان منتقل کی جا رہی تھیں۔ گمرک پر اسکیننگ اور تفصیلی تلاشی کے دوران دیگوں کے اندر بنائے گئے خفیہ خانوں سے چرس برآمد کی گئی۔

April 14, 2026

ٹرمپ نے گفتگو کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے “بہترین کام” کر رہے ہیں۔ ایران پہلے ہی پاکستان کو مذاکرات کے لئے فیورٹ قرار دے چکا ہے۔

April 14, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *