"> ہرات حملہ: عوام غم و غصے میں سڑکوں پر نکل آئی، طالبان کی سکیورٹی ناکامیوں پر شدید سوالات - HTN Urdu ہرات حملہ: عوام غم و غصے میں سڑکوں پر نکل آئی، طالبان کی سکیورٹی ناکامیوں پر شدید سوالات
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ہرات حملہ: عوام غم و غصے میں سڑکوں پر نکل آئی، طالبان کی سکیورٹی ناکامیوں پر شدید سوالات

انجیل ضلع کے قریب ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کا تعلق زیادہ تر شیعہ برادری سے تھا۔ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جنازوں میں شریک ہوئے، جہاں طالبان کی جانب سے عوامی احتجاج پر عائد پابندیوں کے باوجود ہجوم جمع ہوا۔
ہرات حملہ

جنازوں کے دوران جذباتی ماحول دیکھنے میں آیا اور بعض افراد نے دہشت گردی کے خلاف نعرے بھی لگائے، جو سخت کنٹرول والے ماحول میں عوامی ردعمل کی ایک غیر معمولی مثال قرار دی جا رہی ہے۔

April 14, 2026

کابل: افغانستان کے صوبہ ہرات میں ایک مہلک حملے کے بعد عوامی غم و غصہ کھل کر سامنے آ گیا ہے، جہاں کم از کم 11 شہری ہلاک ہونے کے بعد سکیورٹی کی صورتحال پر طالبان حکومت کی کارکردگی پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق انجیل ضلع کے قریب ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کا تعلق زیادہ تر شیعہ برادری سے تھا۔ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جنازوں میں شریک ہوئے، جہاں طالبان کی جانب سے عوامی احتجاج پر عائد پابندیوں کے باوجود ہجوم جمع ہوا۔

عینی شاہدین کے مطابق جنازوں کے دوران جذباتی ماحول دیکھنے میں آیا اور بعض افراد نے دہشت گردی کے خلاف نعرے بھی لگائے، جو سخت کنٹرول والے ماحول میں عوامی ردعمل کی ایک غیر معمولی مثال قرار دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب طالبان حکام نے احتجاجی بیانیے کو محدود کرنے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق مقامی گورنر نے “دہشت گردی مردہ باد” جیسے نعروں کی مخالفت کی، جس پر عوام اور حکام کے درمیان تناؤ مزید بڑھ گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سکیورٹی خدشات کے بجائے بیانیے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس واقعے نے اقلیتی برادریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات کو بھی اجاگر کیا ہے۔ مذہبی مقام کے قریب شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد مقامی افراد کا کہنا ہے کہ زمینی سطح پر سکیورٹی انتظامات کمزور اور غیر مؤثر ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم عوامی سطح پر طالبان کی سکیورٹی فراہم کرنے کی صلاحیت پر اعتماد میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ احتجاج اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خوف میں کمی جبکہ عدم اطمینان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان کے مختلف حصوں میں شہریوں کے خلاف حملوں کے واقعات نے روزمرہ زندگی میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رکھی ہے، جس کے باعث سکیورٹی صورتحال میں بہتری سے متعلق سوالات مزید شدت اختیار کر رہے ہیں۔

دیکھئیے:بغلان میں طالبان پر حملہ: افغانستان فریڈم فرنٹ کا کارروائی میں 4 طالبان ہلاک، 2 زخمی کرنے کا دعوی

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *