چین نے ایران کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر طبی سامان پر مشتمل 58 ٹن ہنگامی امداد فراہم کر دی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ امدادی کھیپ بدھ کے روز تہران میں ایک باضابطہ تقریب کے دوران ایرانی حکام کے حوالے کی گئی۔ اس موقع پر تہران میں موجود چینی سفارت خانے اور ایرانی ہلالِ احمر سوسائٹی کے مابین ایک مفاہمتی دستاویز پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت چین نے ادویات اور دیگر ضروری طبی آلات ایران کے سپرد کیے۔
علاقائی صورتحال پر تشویش
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران میں متعین چینی سفیر نے واضح کیا کہ بیجنگ اس مشکل گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے چھیڑی گئی جنگ ایران کے لیے ایک بڑے انسانی المیے کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں وہاں ادویات اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ چینی سفیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چین خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر اپنا فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔
ایرانی ہلالِ احمر کا اظہارِ تشکر
ایرانی ہلالِ احمر سوسائٹی کے صدر نے اس موقع پر چینی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چین کی جانب سے بروقت امداد دونوں ممالک کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات اور ہمدردی کی عکاس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادویات کی یہ کھیپ موجودہ بحرانی صورتحال میں ایرانی عوام کی طبی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔
تزویراتی اہمیت اور چین کا مؤقف
سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو چین کے اس اصولی موقف کے تسلسل کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس میں وہ ایران کی خود مختاری اور سلامتی کے تحفظ پر زور دیتا رہا ہے۔ چین کا یہ اقدام نہ صرف انسانی ہمدردی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر ایک مضبوط پیغام بھی ہے کہ بیجنگ خطے میں یکطرفہ عسکری اقدامات کے بجائے سفارتی اور انسانی تعاون کے ذریعے استحکام کا حامی ہے۔ چینی سفیر کے مطابق، بیجنگ تہران کی خود مختاری کے احترام کو عالمی امن کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔