وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات کو جتنا جلد ممکن ہو عوام تک منتقل کیا جائے گا، تاکہ مہنگائی کے بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔

April 17, 2026

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ “پاکستان کا شکریہ، اس کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ، دونوں زبردست شخصیات ہیں”،

April 17, 2026

رائٹرز کے مطابق پاکستان کا آئل ٹینکر ’شالامار‘ متحدہ عرب امارات سے تقریباً 8 کروڑ لیٹر خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے اور کراچی کی جانب گامزن ہے، جہاں وہ دو روز میں پہنچنے کی توقع ہے۔

April 17, 2026

دنیا جس قدر معاشی دباؤ اور توانائی کے بحران کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی، اس میں اچانک ٹھہراؤ اور سکون محض اتفاق نہیں بلکہ پاکستان کی انتھک محنت اور سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی، آبنائے ہرمز کا کھلنا اور امریکہ۔ایران کشیدگی میں کمی دراصل ایک بڑے سفارتی عمل کے ثمرات ہیں۔

April 17, 2026

امریکی ناکہ بندی کے باوجود پاکستانی بحری جہاز ‘شالامار’ خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب؛ کراچی کے لیے روانہ۔

April 17, 2026

ملا عمر کے قریبی ساتھی اور سینئر طالبان رہنما ملا معتصم آغاجان کی گرفتاری نے طالبان قیادت میں اندرونی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے اور امن کوششوں کے لیے رابطے بڑھانے کے الزام میں قندھار میں حراست میں لیا گیا۔

April 17, 2026

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان، پاکستانی ٹینکر بلاکیڈ کے بعد خام تیل لے کر نکلنے والا پہلا جہاز بن گیا

امریکی ناکہ بندی کے باوجود پاکستانی بحری جہاز ‘شالامار’ خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب؛ کراچی کے لیے روانہ۔
امریکی ناکہ بندی کے باوجود پاکستانی بحری جہاز 'شالامار' خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب؛ کراچی کے لیے روانہ۔

عالمی تناؤ کے درمیان پاکستان کی بڑی کامیابی؛ پاکستانی پرچم بردار ٹینکر 'شالامار' امریکی ناکہ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والا پہلا جہاز بن گیا۔ 4 لاکھ 50 ہزار بیرل خام تیل کراچی لایا جا رہا ہے۔

April 17, 2026

امریکی جریدے ‘بلومبرگ’ کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کا پرچم بردار بحری جہاز ‘شالامار’ وہ پہلا ٹینکر بن گیا ہے جس نے پیر سے شروع ہونے والی امریکی ناکہ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سے خام تیل کی کھیپ لے کر نکلنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث اس اہم عالمی تجارتی راستے پر ٹریفک انتہائی محدود ہو چکی ہے۔

ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق، افرا میکس کلاس کا یہ ٹینکر جمعرات کی رات گئے ایرانی جزیرے ‘لارک’ کے جنوب سے ہوتا ہوا خلیجِ عمان میں داخل ہوا۔ ‘شالامار’ نے متحدہ عرب امارات کے جزیرہ ‘داس’ سے تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار بیرل خام تیل لوڈ کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ٹینکر اپنی کل گنجائش سے تقریباً آدھا بھرا ہوا ہے اور اس نے اپنی منزل کے طور پر کراچی کی بندرگاہ کا سگنل دیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے حالات

آبنائے ہرمز سے پاکستانی ٹینکر کا بحفاظت گزرنا عالمی سطح پر اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ پیر کے روز سے نافذ العمل امریکی ناکہ بندی کے بعد کسی بھی بڑے ٹینکر کا یہاں سے گزرنا ناممکن نظر آ رہا تھا۔ بلومبرگ کے مطابق، یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ اس تزویراتی راستے پر آمد و رفت ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوئی، تاہم یہ انتہائی محدود ہے۔ ‘شالامار’ کی کراچی واپسی پاکستان کے لیے توانائی کی ترسیل کے تسلسل کے حوالے سے ایک مثبت خبر قرار دی جا رہی ہے۔

عالمی مارکیٹ پر اثرات

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی جہاز کا یہ کامیاب سفر عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے ایک اہم اشارہ ہے۔ ایک طرف جہاں امریکہ اور ایران کے مابین جنگی حالات کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، وہیں پاکستانی پرچم بردار جہاز کا اس خطرناک زون سے خام تیل لے کر نکلنا عالمی بحری برادری کے لیے توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ‘شالامار’ کی آمد متوقع طور پر کراچی کی بندرگاہ پر چند روز میں ہوگی۔

متعلقہ مضامین

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات کو جتنا جلد ممکن ہو عوام تک منتقل کیا جائے گا، تاکہ مہنگائی کے بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔

April 17, 2026

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ “پاکستان کا شکریہ، اس کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ، دونوں زبردست شخصیات ہیں”،

April 17, 2026

رائٹرز کے مطابق پاکستان کا آئل ٹینکر ’شالامار‘ متحدہ عرب امارات سے تقریباً 8 کروڑ لیٹر خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے اور کراچی کی جانب گامزن ہے، جہاں وہ دو روز میں پہنچنے کی توقع ہے۔

April 17, 2026

دنیا جس قدر معاشی دباؤ اور توانائی کے بحران کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی، اس میں اچانک ٹھہراؤ اور سکون محض اتفاق نہیں بلکہ پاکستان کی انتھک محنت اور سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی، آبنائے ہرمز کا کھلنا اور امریکہ۔ایران کشیدگی میں کمی دراصل ایک بڑے سفارتی عمل کے ثمرات ہیں۔

April 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *