امریکی جریدے ‘بلومبرگ’ کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کا پرچم بردار بحری جہاز ‘شالامار’ وہ پہلا ٹینکر بن گیا ہے جس نے پیر سے شروع ہونے والی امریکی ناکہ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سے خام تیل کی کھیپ لے کر نکلنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث اس اہم عالمی تجارتی راستے پر ٹریفک انتہائی محدود ہو چکی ہے۔
ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق، افرا میکس کلاس کا یہ ٹینکر جمعرات کی رات گئے ایرانی جزیرے ‘لارک’ کے جنوب سے ہوتا ہوا خلیجِ عمان میں داخل ہوا۔ ‘شالامار’ نے متحدہ عرب امارات کے جزیرہ ‘داس’ سے تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار بیرل خام تیل لوڈ کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ٹینکر اپنی کل گنجائش سے تقریباً آدھا بھرا ہوا ہے اور اس نے اپنی منزل کے طور پر کراچی کی بندرگاہ کا سگنل دیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے حالات
آبنائے ہرمز سے پاکستانی ٹینکر کا بحفاظت گزرنا عالمی سطح پر اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ پیر کے روز سے نافذ العمل امریکی ناکہ بندی کے بعد کسی بھی بڑے ٹینکر کا یہاں سے گزرنا ناممکن نظر آ رہا تھا۔ بلومبرگ کے مطابق، یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ اس تزویراتی راستے پر آمد و رفت ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوئی، تاہم یہ انتہائی محدود ہے۔ ‘شالامار’ کی کراچی واپسی پاکستان کے لیے توانائی کی ترسیل کے تسلسل کے حوالے سے ایک مثبت خبر قرار دی جا رہی ہے۔
عالمی مارکیٹ پر اثرات
مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی جہاز کا یہ کامیاب سفر عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے ایک اہم اشارہ ہے۔ ایک طرف جہاں امریکہ اور ایران کے مابین جنگی حالات کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، وہیں پاکستانی پرچم بردار جہاز کا اس خطرناک زون سے خام تیل لے کر نکلنا عالمی بحری برادری کے لیے توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ‘شالامار’ کی آمد متوقع طور پر کراچی کی بندرگاہ پر چند روز میں ہوگی۔