اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہروں میں سکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایک بڑے فائیو سٹار ہوٹل کو حکومتی تحویل میں لے لیا گیا ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ معطل کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے مرحلے سے متعلق باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم سفارتی سرگرمیوں اور عالمی بیانات کے بعد اسلام آباد میں پیشگی انتظامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
اتوار کو اسلام آباد کے معروف فائیو سٹار ہوٹل میریٹ کی انتظامیہ نے مہمانوں کو ہدایت کی کہ وہ دوپہر تین بجے تک ہوٹل خالی کر دیں۔ ہوٹل کے جنرل مینیجر کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا کہ حکومت پاکستان نے ایک اہم ایونٹ کے لیے مکمل ہوٹل حاصل کر لیا ہے، جبکہ مہمانوں کے لیے متبادل انتظامات کی پیشکش بھی کی گئی۔
اسی طرح اسلام آباد کے سرینا ہوٹل، جہاں اس سے قبل امریکا ایران مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا، نے بھی آئندہ چند روز کے لیے بکنگ بند کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ہوٹل میں کمرے دستیاب نہیں، جسے ممکنہ سفارتی سرگرمیوں سے جوڑا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد اور راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنرز نے اتوار سے پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ تاحکم ثانی معطل رکھنے کا حکم جاری کیا ہے، جبکہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق نور خان ایئربیس کے اطراف واقع رہائشی علاقوں میں بھی سخت نگرانی کی جا رہی ہے، جہاں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات ہے اور صورتحال کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں عندیہ دے چکے ہیں کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ اسلام آباد میں طے پایا تو وہ خود بھی پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، تاہم کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوا، جس کے بعد اگلے مرحلے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔