رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی ایران نے مذاکرات کے انعقاد پر شکوک کا اظہار کیا تھا، لیکن بعد ازاں اس کا وفد اچانک مذاکرات میں شریک ہو گیا تھا۔ مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال بھی اسی طرز کی غیر یقینی کیفیت کی عکاسی کرتی ہے۔

April 21, 2026

ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت رسول محمد عرف حماس کے نام سے ہوئی ہے، جو یار محمد کا بیٹا اور افغانستان کے صوبہ پکتیا کے ضلع احمد آباد کے گاؤں خواجہ رخیلہ کا رہائشی تھا۔

April 20, 2026

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ اس معاہدے کو ختم نہ کرتے تو اسرائیل، مشرقِ وسطیٰ اور امریکی فوجی اڈوں کو جوہری خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔ انہوں نے امریکی میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے جان بوجھ کر اس معاہدے کی حمایت کرتے رہے، حالانکہ یہ امریکا کے لیے باعثِ شرمندگی تھا۔

April 20, 2026

اپنے بیان میں ٹرمپ نے ایران کے مستقبل سے متعلق بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران میں نئی قیادت “سمجھداری” کا مظاہرہ کرے تو ملک ایک بہتر اور خوشحال مستقبل حاصل کر سکتا ہے۔ ان کے اس بیان کو مبصرین ایران میں ممکنہ “رجیم چینج” کے اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

April 20, 2026

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ مبہم رویہ سفارتی حکمت عملی بھی ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے وہ مذاکرات سے قبل اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے، تاہم اس سے امن عمل میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔

April 20, 2026

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، اور دونوں ممالک کے ساتھ اس کے روابط کو سفارتی عمل میں ایک اثاثہ سمجھا جا رہا ہے۔

April 20, 2026

متضاد بیانات کے باوجود ایرانی وفد پاکستان جائے گا: باقر قالیباف کی آمد متوقع؛ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی ایران نے مذاکرات کے انعقاد پر شکوک کا اظہار کیا تھا، لیکن بعد ازاں اس کا وفد اچانک مذاکرات میں شریک ہو گیا تھا۔ مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال بھی اسی طرز کی غیر یقینی کیفیت کی عکاسی کرتی ہے۔
ایرانی وفد پاکستان آنے کے لئے تیار

رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو واشنگٹن سے اسلام آباد روانہ ہونے والے ہیں، جبکہ ایرانی حکام نے بھی اشارہ دیا ہے کہ ان کا وفد مذاکرات میں شرکت کرے گا۔

April 21, 2026

تہران: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکا اور ایران نے حالیہ سخت بیانات اور کشیدگی کے باوجود پاکستان میں نئے مذاکرات کے لیے تیاریوں کا عندیہ دیا ہے، جہاں دونوں ممالک کے وفود اس ہفتے اسلام آباد میں بات چیت کے لیے پہنچ سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو واشنگٹن سے اسلام آباد روانہ ہونے والے ہیں، جبکہ ایرانی حکام نے بھی اشارہ دیا ہے کہ ان کا وفد مذاکرات میں شرکت کرے گا۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ بااثر رہنما محمد باقر قالیباف بھی مذاکرات میں شریک ہو سکتے ہیں، تاہم اس کا انحصار امریکی وفد کی شرکت پر ہوگا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران میں ممکنہ “رجیم چینج” کا ذکر کیا، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، تاہم انہوں نے امریکا پر گہرے تاریخی عدم اعتماد کا بھی اظہار کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی ایران نے مذاکرات کے انعقاد پر شکوک کا اظہار کیا تھا، لیکن بعد ازاں اس کا وفد اچانک مذاکرات میں شریک ہو گیا تھا۔ مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال بھی اسی طرز کی غیر یقینی کیفیت کی عکاسی کرتی ہے۔

ادھر دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی اپنی مدت کے اختتام کے قریب ہے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی صدر کے مطابق امریکی بحریہ نے ایک ایرانی جہاز کو روک کر قبضے میں لیا، جبکہ ایرانی حکام نے اس اقدام کو “بحری قزاقی” قرار دیتے ہوئے ردعمل کی وارننگ دی ہے۔

پاکستان میں ان مذاکرات کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں اور حکام کے مطابق اسلام آباد میں اضافی 10 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سخت بیانات اور متضاد اشاروں کے باوجود اگر مذاکرات ہوتے ہیں تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی اہم کوشش ہو سکتی ہے۔

دیکھئیے:اسرائیل نہیں، 7 اکتوبر کے نتائج نے میرا ذہن بدلا: صدر ٹرمپ کا ایران میں ‘تبدیلیِ اقتدار’ اور جوہری پروگرام پر سخت ترین موقف

متعلقہ مضامین

ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت رسول محمد عرف حماس کے نام سے ہوئی ہے، جو یار محمد کا بیٹا اور افغانستان کے صوبہ پکتیا کے ضلع احمد آباد کے گاؤں خواجہ رخیلہ کا رہائشی تھا۔

April 20, 2026

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ اس معاہدے کو ختم نہ کرتے تو اسرائیل، مشرقِ وسطیٰ اور امریکی فوجی اڈوں کو جوہری خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔ انہوں نے امریکی میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے جان بوجھ کر اس معاہدے کی حمایت کرتے رہے، حالانکہ یہ امریکا کے لیے باعثِ شرمندگی تھا۔

April 20, 2026

اپنے بیان میں ٹرمپ نے ایران کے مستقبل سے متعلق بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران میں نئی قیادت “سمجھداری” کا مظاہرہ کرے تو ملک ایک بہتر اور خوشحال مستقبل حاصل کر سکتا ہے۔ ان کے اس بیان کو مبصرین ایران میں ممکنہ “رجیم چینج” کے اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

April 20, 2026

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ مبہم رویہ سفارتی حکمت عملی بھی ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے وہ مذاکرات سے قبل اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے، تاہم اس سے امن عمل میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔

April 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *