تہران: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکا اور ایران نے حالیہ سخت بیانات اور کشیدگی کے باوجود پاکستان میں نئے مذاکرات کے لیے تیاریوں کا عندیہ دیا ہے، جہاں دونوں ممالک کے وفود اس ہفتے اسلام آباد میں بات چیت کے لیے پہنچ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو واشنگٹن سے اسلام آباد روانہ ہونے والے ہیں، جبکہ ایرانی حکام نے بھی اشارہ دیا ہے کہ ان کا وفد مذاکرات میں شرکت کرے گا۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ بااثر رہنما محمد باقر قالیباف بھی مذاکرات میں شریک ہو سکتے ہیں، تاہم اس کا انحصار امریکی وفد کی شرکت پر ہوگا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران میں ممکنہ “رجیم چینج” کا ذکر کیا، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، تاہم انہوں نے امریکا پر گہرے تاریخی عدم اعتماد کا بھی اظہار کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی ایران نے مذاکرات کے انعقاد پر شکوک کا اظہار کیا تھا، لیکن بعد ازاں اس کا وفد اچانک مذاکرات میں شریک ہو گیا تھا۔ مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال بھی اسی طرز کی غیر یقینی کیفیت کی عکاسی کرتی ہے۔
ادھر دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی اپنی مدت کے اختتام کے قریب ہے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی صدر کے مطابق امریکی بحریہ نے ایک ایرانی جہاز کو روک کر قبضے میں لیا، جبکہ ایرانی حکام نے اس اقدام کو “بحری قزاقی” قرار دیتے ہوئے ردعمل کی وارننگ دی ہے۔
پاکستان میں ان مذاکرات کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں اور حکام کے مطابق اسلام آباد میں اضافی 10 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سخت بیانات اور متضاد اشاروں کے باوجود اگر مذاکرات ہوتے ہیں تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی اہم کوشش ہو سکتی ہے۔