واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے، جبکہ انہوں نے ایران میں ممکنہ قیادت کی تبدیلی کا بھی عندیہ دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل نے انہیں ایران کے ساتھ جنگ کی طرف مائل نہیں کیا، بلکہ 7 اکتوبر کے واقعات نے ان کے دیرینہ مؤقف کو مزید مضبوط کیا کہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے حوالے سے ان کے خیالات مستقل رہے ہیں اور حالیہ حالات نے اس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
“Israel never talked me into the war with Iran, the results of Oct. 7th, added to my lifelong opinion that IRAN CAN NEVER HAVE A NUCLEAR WEAPON, did… the results in Iran will be amazing – And if Iran’s new leaders (Regime Change!) are smart, Iran can have a great and prosperous… pic.twitter.com/KJXICktUcH
— The White House (@WhiteHouse) April 20, 2026
صدر ٹرمپ نے امریکی میڈیا اور سروے رپورٹس کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر تجزیے اور پولز “جھوٹ پر مبنی” ہوتے ہیں اور ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے 2020 کے صدارتی انتخابات اور وینزویلا کی مثال دیتے ہوئے انتخابی عمل پر بھی سوالات اٹھائے۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے ایران کے مستقبل سے متعلق بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران میں نئی قیادت “سمجھداری” کا مظاہرہ کرے تو ملک ایک بہتر اور خوشحال مستقبل حاصل کر سکتا ہے۔ ان کے اس بیان کو مبصرین ایران میں ممکنہ “رجیم چینج” کے اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور ممکنہ مذاکرات کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا سخت لب و لہجہ سفارتی عمل پر اثر انداز ہو سکتا ہے، جبکہ خطے میں صورتحال مزید حساس مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔